menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aalmi Aman Mein Pakistan Ka Kirdar

12 0
previous day

عالمی امن میں پاکستان کا کردار

دنیا اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں امن صرف ایک خواہش نہیں بلکہ انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ براعظموں کے درمیان فاصلے کم ہو گئے ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج تو بنا دیا، لیکن جنگ، نفرت، تعصب، مذہبی انتہا پسندی، معاشی مفادات اور طاقت کی سیاست نے اس گاؤں کے سکون کو مسلسل خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان، جو خود دہشت گردی، جنگوں، داخلی مشکلات اور علاقائی کشیدگیوں کا سامنا کرتا رہا ہے، عالمی امن کے قیام میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب پاکستان کی تاریخ، اس کی سفارت کاری، اس کی افواج کی قربانیوں، اقوام متحدہ میں اس کی امن کاری اور سب سے بڑھ کر اس کے ادیبوں، شاعروں، دانش وروں اور اہلِ قلم کے کردار میں پوشیدہ ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کا رکن 30 ستمبر 1947ء کو بنا اور اس نے ابتدا ہی سے عالمی امن، بین الاقوامی سلامتی، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی حمایت کی ہے۔ پاکستانی امن دستے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران چار براعظموں میں 46 اقوام متحدہ کے مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یہ اعداد صرف اعداد نہیں، یہ ان پاکستانی جوانوں کی داستان ہیں جنہوں نے اپنے گھر، اپنے بچے، اپنی مٹی اور اپنی آسائشیں چھوڑ کر دنیا کے ان علاقوں کا رخ کیا جہاں انسان انسان سے خوف زدہ تھا۔ پاکستانی سپاہی نے صرف وردی نہیں پہنی، اس نے اقوام متحدہ کا نیلا پرچم بھی اٹھایا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن کا محافظ بن کر بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اگست 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے 2673 یونیفارمڈ اہلکار مختلف امن مشنز میں خدمات انجام دے رہے تھے، جن میں فوجی، پولیس اور دیگر اہلکار شامل تھے۔

یہاں ایک اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امن صرف مذاکرات کی میز پر پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی امن کے لیے میدان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، کبھی سرحد پر پہرہ دینا پڑتا ہے، کبھی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی ایک زخمی معاشرے کو دوبارہ زندگی کی طرف لانا پڑتا ہے۔ افواجِ پاکستان نے ان تمام مراحل میں اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔

پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی بھاری انسانی قیمت ادا کی ہے۔ ہمارے فوجی، پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عام شہری اس جنگ میں جانیں قربان کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے امن محض سفارتی اصطلاح نہیں، امن ہماری قومی ضرورت بھی ہے اور قومی تجربہ بھی۔ لیکن امن کی حفاظت صرف بندوق سے نہیں ہوتی۔ بندوق جنگ روک سکتی ہے، مگر دلوں میں امن پیدا نہیں کر سکتی۔ سرحد محفوظ کی جا سکتی ہے، مگر انسان کے اندر بیٹھے خوف کو صرف........

© Daily Urdu