Fake Democracy
وزیر اطلاعات عظمہ بخاری نے چند دن پہلے میڈیا کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کئی ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کے جوابات دینا بھی خود ان ہی کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحافی کون ہے اور پھر خود ہی کہا کہ آپ لوگ صحافی اسے کہتے ہیں جو پریس کلب کا ممبر ہے اور الزام لگایا کہ کچھ صحافی لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمران تنقید کرنے اور حکمرانوں کی کرپشن اور نااہلی کی بات کرنے پر صحافیوں کو بلیک میلر کا خطاب دینے لگتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے کئے گئے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال تو یہ بنتا ہے کہ ملکی پیسہ اور اختیارات تو کسی صحافی کے پاس نہیں ہوتے ہیں بلکہ صحافی کا تو واحد اختیار یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی قلم اور زبان کا سہارا لیتے ہوئے ان کرپشن کے کرداروں کو بے نقاب کرے۔ بے نقاب بھی اس لئے نہیں کرنا ہوتا ہے کہ صحافی کو ایسا کرنے سے مزا آتا ہے بلکہ ایسا کرکے صاحب اختیار اور صاحب اقتدار لوگوں کی مدد کرنا مقصود ہوتا ہے تاکہ وہ بروقت چوری اور بے ایمانی کو روک کر ملکی خزانے اور قومی اقدار کا تحفظ کرسکیں۔
اب بدقسمتی ہے ہی یہی کہ ہر محکمے میں لوگ برملا کہتے ہیں کہ وہ جو کرپشن کرتے ہیں اس میں سے حصہ اوپر والوں کو بھی ملتا ہے۔ جب لوٹ مار کے کھیل میں اوپر والوں کی آشیرباد شامل ہوتی ہے تو پھر ایسی لوٹ مار کو قانونی تحفظ بھی مل جاتا ہے اور جو آواز بھی اس کرپشن کے خلاف اٹھتی ہے اس کو متنازعہ بنانے کے لئے پروپیگنڈہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک صحافی کبھی بھی کسی کے خلاف نہیں لکھتا ہے بلکہ وہ سسٹم کی ان خامیوں پر بات........
