Saniha 9 May
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو صرف وقتی بحران نہیں ہوتے بلکہ وہ ریاست، سیاست، عدلیہ، میڈیا اور عوامی نفسیات کے درمیان تعلق کی نئی جہت متعین کر دیتے ہیں۔ نو مئی 2023 کے واقعات بھی ایک ایسا ہی باب ہیں جنہوں نے نہ صرف ملکی سیاست کا رخ تبدیل کیا بلکہ جمہوریت، آئین، انصاف اور اظہارِ رائے کی آزادی کے متعلق کئی بنیادی سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
اس دن جو کچھ ہوا، وہ یقیناً ایک افسوسناک اور تکلیف دہ منظر تھا۔ قومی تنصیبات پر حملے، سرکاری املاک کو نقصان اور اشتعال انگیزی کسی بھی مہذب ریاست میں ناقابلِ قبول عمل ہے۔ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے، مگر اصل بحث وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں قانون کی عملداری اور سیاسی انتقام کے درمیان لکیر دھندلا دی جائے۔
نو مئی کے بعد جو منظرنامہ تشکیل دیا گیا، اس میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ چند درجن افراد جن کی شناخت خود مشکوک تھی کے جرم کی سزا ایک پوری سیاسی جماعت، اس کے نظریے اور اس سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو دی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف جس شدت سے کریک ڈاؤن کیا گیا، اس نے ماضی کی سیاسی انتقامی کارروائیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔
ملک بھر میں ہزاروں کارکن گرفتار کیے گئے، گھروں پر رات کی تاریکی میں چھاپے مارے گئے، خواتین اور بزرگوں تک کو ہراساں کیا گیا، چادر چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا خواتین کو سڑکوں پر گیسٹا گیا نوجوانوں کو محض سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا اور سیاسی وابستگی کو جرم کی علامت بنا دیا گیا۔ کئی خاندان مہینوں اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر رہے جبکہ جبری گمشدگیوں کی آک نئی تاریخ رقم کی گئی۔ ریاستی طاقت کے اس بے رحم استعمال نے یہ سوال پیدا کیا کہ کیا واقعی مقصد صرف قانون کی بالادستی تھا یا ایک مقبول سیاسی قوت کو ہر قیمت پر دیوار سے لگانا؟
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متنازع معاملہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا رہا۔ آئین اور جمہوری........
