Darakhton Par Jhoolay Achhe Lagte Hain, Laashein Nahi
درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں
لائبہ کو دنیا سے گزرے کئی روز گزر چکے ہیں۔ اب تو یہ واقعہ بھی رفتہ رفتہ لوگوں کی یادداشت سے محو ہونے لگا ہے۔ چند دن کا شور، سوشل میڈیا پر چند اداس پوسٹیں، کچھ مذمتی بیانات اور پھر وہی روزمرہ کی مصروفیات۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک ہونہار، گولڈ میڈلسٹ لڑکی کو اس مقام تک پہنچانے میں ہمارا کتنا ہاتھ تھا؟
اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کی اس ذہین طالبہ نے امریکہ جانے کا خواب دیکھا۔ جب کہ یونی ورسٹی کی جانب سے اسے سعودی عرب میں اسکالرشپ مل رہی تھی۔ بیٹی کے خواب پورے کرنے کی خاطر اس کے پھل فروش باپ نے اپنی جمع پونجی ہی نہیں، اپنا گھر تک داؤ پر لگا دیا۔ ماں نے زیورات گروی رکھ دیے۔ خاندان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس امید پر لاکھوں روپے قربان کر دیے کہ بیٹی کا مستقبل سنور جائے گا۔
کیا اس خواب کے پیچھے صرف لائبہ تھی؟ کیا ہمارے معاشرے کی نئی نسل اسی خواب کی اسیر نہیں ہے؟
آپ کو اپنے بچوں کے لیے اس طرز کے مشورے اکثر سننے کو ملتے ہوں گے۔
"اپنے بچوں کو یہاں سے بھیج دو"۔
"یہاں رکھا ہی کیا ہے؟"
"باہر جا کر مستقبل بن جائے گا"۔
"امریکہ بھیج دو، برطانیہ روانہ کر دو، فلاں ملک، ڈھماکا ملک، جہاں بھی بَس چلے، بھیج دو۔ ملک سے باہر، بس پاکستان سے دور۔
یہ پٹی ہمارے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھی شدومد کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے۔ باقاعدہ اس کام کے لیے اچھی تنخواہوں پر کاؤنسلر رکھے جاتے ہیں، جو بچوں کو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے سنہری خواب دکھاتے ہیں۔ خواب دکھانے میں بھلا خرچ ہی کیا ہوتا ہے؟ اصل خرچہ تو ان خوابوں کو پورا کرنے والوں کا ہوتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ کتنے والدین........
