menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qaumi Ilmi Khazane Ka Ziyan Aur Raddi Ki Dukan

38 0
11.03.2026

قومی علمی اثاثے کا زیاں اور ردی کی دکان

پاکستان اس وقت ایک ایسی علمی و تعلیمی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے قیام کے بعد سے ملک میں یونیورسٹیوں کی تعداد اور گریجویٹس کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، اس مقداری ترقی کے پیچھے ایک ایسا ہولناک علمی المیہ چھپا ہوا ہے جس پر خاموشی قومی خودکشی کے مترادف ہے۔ یہ المیہ لاکھوں طلبہ کی اس تحقیق (Research) کا ضیاع ہے جو ڈگری کے حصول کے لیے تیار تو کی جاتی ہے، مگر ڈگری ملنے کے فوری بعد یونیورسٹیوں کے تاریک اسٹورز اور ردی کی دکانوں کی نذر ہو جاتی ہے۔

اگر ہم پچھلے پانچ سالوں (2018-2023) کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں، تو صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔ ایچ ای سی کی سالانہ شماریاتی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اوسطاً ہر سال 5 سے 6 لاکھ طلبہ بی ایس (BS) مکمل کرتے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں یہ مجموعی تعداد تقریباً 28 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح ایم فل (MS/M۔ Phil) کے شعبے میں تقریباً 2 لاکھ 42 ہزار سے زائد مقالے تیار کیے گئے، جبکہ پی ایچ ڈی (PhD) کی سطح پر تقریباً 12 ہزار اعلیٰ معیاری تحقیقی دستاویزات مکمل ہوئیں۔

یہ........

© Daily Urdu