menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Noora Kushti

28 0
28.04.2026

​عالمی سیاست کے شطرنج پر جو مہرے ہمیں نظر آتے ہیں، ان کی اصل چالیں اکثر پردے کے پیچھے چلی جاتی ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل محض ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، تو آپ کو تریتا پارسی (Trita Parsi) کی شہرہ آفاق کتاب "Treacherous Alliance" کے ہوش ربا انکشافات کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ یہ کتاب محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ ان خفیہ راہداریوں کا نقشہ ہے جہاں دشمنی کے لبادے میں مفادات کی سودے بازی ہوتی ہے۔

​جب ہم ایسی حساس بحث چھیڑتے ہیں تو لوگ سب سے پہلے "سورس" (Source) پر حملہ کرتے ہیں۔ تریتا پارسی 1974 میں ایران میں پیدا ہوئے، سویڈن میں پلے بڑھے اور امریکہ کی مشہور جونز ہاپکنز یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کے استاد عالمی شہرت یافتہ ماہرِ سیاسیات فرانسس فوکویاما تھے۔ پارسی "نیشنل ایرانی امریکن کونسل" کے بانی ہیں اور آج کل واشنگٹن کے بااثر ترین تھنک ٹینک "کوئنسی انسٹی ٹیوٹ" (Quincy Institute) کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ ان کی رسائی وائٹ ہاؤس کے بند کمروں سے لے کر تہران کے سفارتی حلقوں تک ہے، اسی لیے ان کی تحریر کو "اندر کی گواہی" مانا جاتا ہے۔

​2۔ کتاب کا تعارف اور مرکزی خیال

​یہ کتاب پہلی بار 2007 میں ییل یونیورسٹی پریس (Yale University Press) سے شائع ہوئی اور اسے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر مستند ترین دستاویز مانا........

© Daily Urdu