Erin Hutchings Ka Karnama
ایرون ہچنگز کا کارنامہ
کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر قصور کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ برطانیہ سے آئے ایک انسان دوست، ایرون ہچنگز نے اپنے جوبلی پروجیکٹ کے تحت پنجاب کے ایک بھٹے پر جا کر ایک ایسے خاندان کا قرض ادا کیا جو پچھلے ایک سو تیس سالوں سے، یعنی چار نسلوں سے، وہاں بندھوا مزدوری کی دلدل میں جکڑا ہوا تھا۔ جب انہوں نے اس خاندان کو بتایا کہ اب وہ آزاد ہیں، تو اس خاندان کی بوڑھی ماں ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ یہ محض ایک ویڈیو نہیں تھی، یہ ہمارے پورے معاشرے کے منہ پر ایک واضح سوال تھا کہ جو کام ہمارے اپنے امراء اور حکومتوں کو کرنا چاہیے تھا، وہ سات سمندر پار سے ایک غیر ملکی آ کر کر رہا ہے۔
اس واقعے نے پاکستان میں جدید دور کی غلامی کا ایک ہولناک چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ گلوبل سلیوری انڈیکس کے مطابق، پاکستان میں اس وقت تقریباً تیئس لاکھ سے زائد لوگ جدید غلامی اور جبری مشقت کی دلدل میں جکڑے ہوئے ہیں، جبکہ بعض دیگر آزاد عالمی رپورٹس یہ تعداد پینتالیس لاکھ تک بتاتی ہیں۔ ان انسانوں کی زندگی انتہائی کٹھن ہے، جو تپتی دھوپ، کوئلے کی کانوں اور نجی ڈیروں پر دن رات پسینہ بہاتے ہیں، لیکن ان کا یہ خون پسینہ بھی ان کے آباؤ اجداد کے لیے گئے چند ہزار روپے کے قرض کا سود تک نہیں چکا پاتا۔ یہ نظام ہمارے معاشرے میں اینٹوں کے بھٹوں، زرعی شعبے، کان کنی اور گھریلو مشقت کی صورت میں پھیلا ہوا ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ قرآنِ مجید میں مجموعی طور پر کم و بیش گیارہ........
