menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iqtidar Bhi, Shikwa Bhi?

13 0
previous day

اقتدار بھی، شکوہ بھی؟

جب ریاست کے اہم منصب دار اور مقتدر طبقات اچانک خود ہی اس بات کا ڈھنڈورا پیٹنے لگیں کہ "سسٹم تباہ ہو چکا ہے" تو یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ بن جاتا ہے جو قوم کی اجتماعی فکر پر لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ جو دانا، بینا اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے طاقتور کردار پچھلے دو تین برسوں سے اسی نظام کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں، جن کے دستخطوں سے فیصلے صادر ہوئے، جن کے احکامات پر مملکت کا پہیہ چلتا رہا، وہ آج ببانگِ دہل یہ فرما رہے ہیں کہ جس سائے تلے ہم سانس لے رہے ہیں وہ درخت جڑ سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔

یہ منطق کسی طور بھی ذہنِ سلیم کے لیے قابلِ ہضم نہیں۔ اگر یہ نظام حقیقت میں تباہ ہو چکا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے دو سال سے آپ ایوانِ اقتدار کے قالینوں کو رونق کیوں بخش رہے تھے؟ کیا اقتدار کی کرسی صرف بیانیے گھڑنے، تباہی کے قصے سنانے اور مسندِ اقتدار کا لطف اٹھانے کے لیے ہے یا اس نظام کے نقائص کو دور کرنے کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری بھی انہی اقتدار نشینوں پر عائد ہوتی ہے؟

مسندِ اقتدار پر بیٹھ کر بدحالی کا ماتم کرنا اور خود کو ایک غیر جانبدار مبصر ظاہر کرنا فرارِ ذمہ داری کی بدترین مثال ہے جس کی اجازت کوئی بھی مہذب جمہوریت نہیں دیتی۔ اگر نظام واقعی اس حد تک بوسیدہ ہو چکا تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو سالوں میں اس مسندِ اقتدار کی چھاؤں میں بیٹھ کر آپ نے کون سی اصلاحی جراحی انجام دی؟ اقتدار نشینوں کا فرضِ منصبی محض زوال کا روپ دھار کر بیٹھنا نہیں بلکہ بگاڑ کو سدھارنا ہوتا ہے۔ اگر داخلی سیکیورٹی کے امور اور وزارتِ داخلہ کا قلمدان آپ کے پاس رہا تو مملکت میں امن و امان کی ابتر صورتحال، بڑھتی........

© Daily Urdu