Waham, Rad e Amal Aur Bikharta Muashra
وہم، ردِعمل اور بکھرتا معاشرہ
جنگل کا منظر ذرا تصور میں لائیے۔ کہیں خاموش فضا ہے۔ درخت ساکت ہیں اور ہوا بھی جیسے دبے پاؤں چل رہی ہو۔ اچانک دور سے کوئی ہلکی سی آہٹ سنائی دیتی ہے اور پھر پورا منظر بدل جاتا ہے۔ پرندے شور مچاتے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ کچھ بے ترتیب اڑان بھر لیتے ہیں۔ کچھ درختوں پر دم سادھ لیتے ہیں۔ جیسے انہیں خود بھی نہیں پتا کہ خطرہ کہاں ہے۔ مگر خطرہ ضرور ہے۔ فضا ایک دم شور سے بھر جاتی ہے۔
ہرن ایک چوکنا ہو کر چوکڑیاں بھرنے لگتا ہے۔ کچھ جانور گو مگو کے عالم میں فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ بھاگنا ہے یا رکنا ہے۔ بندر ایک ہی لمحے میں شاخوں پہ جھولنے لگتا ہے۔ شیر اپنی دھاڑ سے پورے جنگل کو لرزا دیتا ہے۔ ہاتھی اپنی قوت کے اظہار میں اپنی سونڈ اٹھا کر زمین پر زور سے مارتا ہے۔ ایک ہی لمحہ۔ ایک ہی ماحول۔ مگر ہر جانور کا ردِعمل الگ ہے۔ کہیں چپ۔ کہیں شور۔ کہیں بھاگ دوڑ اور کہیں مقابلہ۔
یہی منظر اگر بدل دیا جائے تو جنگل غائب ہو کر شہر سامنے آ جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنگل میں جبلت بولتی ہے۔ جبکہ انسان کے پاس شعور، سوچ اور انتخاب کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انسانی رویے کئی بار اسی فطری شدت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ کلاس روم ہے۔ بازار ہے۔ گلیاں........
