menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Madari, Bandar Aur Jungle

25 0
22.07.2026

کہانی کبھی نہیں مرتی۔ صرف اپنے کردار بدل لیتی ہے۔ بچپن میں ہم نے ایک کہانی سنی تھی۔ دو بلیاں تھیں۔ ایک روٹی تھی اور ایک بندر تھا۔ بلیاں انصاف ڈھونڈ رہی تھیں۔ بندر انصاف بانٹنے بیٹھا اور انصاف کے نام پر پوری روٹی کھا گیا۔ اس کہانی کا سبق بہت واضح تھا کہ جہاں شعور کم اور اختلاف زیادہ ہو۔ وہاں کوئی تیسرا ہمیشہ فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ لیکن اب وہ کہانی اپنی عمر پوری کر چکی ہے۔ اس لیے نہیں کہ بندر بدل گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ پورا جنگل بدل گیا ہے۔ آج کے بندر کو بلیوں کی روٹی چھیننے کے لیے کسی بہانے کی ضرورت نہیں رہی۔ کسی جھگڑے میں ثالث بننے کی ضرورت نہیں۔ اب وہ روٹی کے لیے خود تماشا لگاتا ہے۔

وہ کرتب دکھاتا ہے۔ قلابازیاں کھاتا ہے۔ شاخوں پر بیٹھ کر شور مچاتا ہے۔ کہیں اپنے ساتھی بندر کی جوئیں نکالتا نظر آتا ہے اور کہیں وہی ساتھی اسکے طنز اور تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔ ہر منظر ایک نئی توجہ پیدا کرتا ہے اور آج کے زمانے میں توجہ ہی سب سے بڑی کرنسی بن چکی ہے۔ یہ عجیب دور ہے کہ اب روٹی محنت سے کم اور توجہ سے زیادہ ملتی ہے۔ بندر تو ہمیشہ سے بندر تھے۔ اچھلنا، کودنا، شور مچانا، اپنی موجودگی کا احساس دلانا ان کی فطرت ہے۔ اصل سوال بندروں کا نہیں۔ اس جنگل کا ہے۔ جس نے بندروں کے کرتب کو اپنی سب سے بڑی مصروفیت بنا لیا ہے۔ حیرت بندروں پر نہیں، بلیوں پر ہوتی........

© Daily Urdu