Harf e Aghaz Ya Catharsis
یقین مانئے کہ میں ابھی تک الجھن میں ہوں کہ میں نے آخر کیا لکھا ہے؟ اسے یادداشتیں قرار دیا جائے، آپ بیتی کہا جائے، مشاہدات کی ایک طویل ڈائری سمجھا جائے یا پھر یہ سفرنامے کی معنویت اور معیار پر بھی پورا اترتا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب شاید میرے پاس بھی نہیں۔ ممکن ہے اس کا فیصلہ قارئین کریں، ممکن ہے وقت کرے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تحریر ان تمام اصناف کے درمیان کہیں اپنا مقام تلاش نہ کر سکے۔
بہرحال، جو کچھ دیکھا، محسوس کیا، برداشت کیا، سمجھا اور بعض اوقات نہ بھی سمجھ سکا، اسے لکھ دیا ہے۔ اب یہ سب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
2003 کے پہلے غیر قانونی سفر سے لے کر 2014 میں باقاعدہ اسفار کے آغاز تک، سفر تو جاری رہے مگر کبھی سنجیدگی سے یہ خیال نہیں آیا کہ ان تجربات کو کتابی صورت بھی دی جا سکتی ہے۔ انسان زندگی گزارتا رہتا ہے، واقعات اس کے گرد رونما ہوتے رہتے ہیں، کچھ یاد رہ جاتے ہیں، کچھ وقت کے گردوغبار میں گم ہو جاتے ہیں۔ شاید میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا جو سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں ایسا کچھ نہیں جسے کتاب کا حصہ بنایا جا سکے۔
البتہ ڈائری لکھنے کا شوق بچپن سے تھا۔ کم عمری میں ھی کتب بینی کا شوق بھی تھا اور اکثر کاغذ پر اپنے خیالات اتارنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ وہ تحریریں نہ ادب تھیں، نہ تاریخ اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر علمی سرمایہ مگر ان میں ایک چیز ضرور تھی اور وہ تھی کچھ نہ کچھ کرتے رھنا۔ شاید کچھ بہتر کر جانے کی خواھش۔
وقت گزرتا گیا، ڈائریاں گم ہوتی گئیں، صفحات بکھرتے گئے اور زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔
2014 کے بعد بھلا ہو فیس بک کا کہ اس نے لکھنے کی ایک نئی کھڑکی کھول دی۔ ایران سے متعلق مختصر تحریریں، سفر کے چھوٹے چھوٹے واقعات، لوگوں کے رویے، بازاروں کی رونقیں، مذہبی اور سماجی مشاہدات، کبھی مزاحیہ انداز میں اور کبھی سنجیدہ لہجے میں لکھتا رہا۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ یہی منتشر تحریریں ایک دن کسی عمارت کی اینٹیں بھی ثابت ہو سکیں گی۔
2018 میں عزیز دوست مولانا ثناء اللہ سعد صاحب نے سفرنامہ لکھنے کی باقاعدہ ترغیب دینا شروع کی۔ میں ہر بار ٹال دیتا۔ اپنی محدود ذہنی، فکری اور مالی کم مائیگی کا بھرپور احساس تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ سفرنامے بڑے لوگ لکھتے ہیں، بڑے ادیب، بڑے صحافی، نامور لوگ لکھتے ہیں۔ میرے جیسے عام آدمی کے مشاہدات میں بھلا ایسی کیا خاص بات ہو سکتی ہے؟
اس کتاب کے منصۂ شہود پر آنے کا اولین اور آخری کریڈٹ مولانا ہی کو جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مولانا نے ابھی تک یہ کتاب پڑھی نہیں ہے۔ جب پڑھیں گے تو ممکن ہے چند لمحوں کے لیے افسوس میں مبتلا ہو جائیں کہ ان سے یہ کیا غلطی سر زد ھوئی ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ مسلسل اصرار نہ کرتے تو شاید یہ کتاب کبھی وجود میں نہ آتی۔
غالباً 2022 میں میں نے ایک مضمون اردو کے معروف پلیٹ فارم "ہم سب" کو بھیجا۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے اسے شائع بھی کر دیا۔ اس ویب سائٹ کے چیف ایڈیٹر محترم وجاہت مسعود صاحب اور ایڈیٹر جناب عدنان خان کاکڑ صاحب ہیں۔
یہ میرے لیے ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔
بظاہر ایک معمولی سی اشاعت، مگر میرے لیے ایک ذہنی انقلاب سے کم نہیں تھی۔ لکھنے کی بابت خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ احساس ہوا کہ جہاں ملک کے نامور، معروف، مقبول، قد آور اور باوقار ادیب و صحافی لکھتے ہیں، وہاں مجھ جیسے "کوتاہ و سیاہ فکر" کو بھی جگہ مل سکتی ہے۔
اس کے بعد مضامین شائع ہوتے رہے اور میں لکھتا رہا۔
کچھ عرصے بعد دوسری معروف ویب سائٹ "مکالمہ" پر بھی کالم اور مضامین شائع ہونے لگے۔ جس کے چیف ایڈیٹر جناب انعام رانا صاحب اور ایڈیٹر محترم اسماء صاحبہ ھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ویوز ملے۔ قارئین کے تبصرے آئے۔ اختلاف بھی ہوا، اتفاق بھی ہوا، تعریف بھی ہوئی اور تنقید بھی۔ مگر ان سب نے مل کر میرے اندر لکھنے کی خواہش کو مزید تقویت دی۔
ممبئی انڈیا سے دور حاضر کے بابائے اردو جناب نادر خان سرگروہ صاحب کو میں نے اپنا ایک مضمون بعنوان "مشاہدات ایران" اصلاح کیلئے بھیجا۔ انہوں نے بھرپور انداز سے ایک ایک لفظ، ایک ایک سطر، ایک ایک پیرے پر مفصل اصلاحی تبصرہ کیا، مشورے دئیے اور تحریر کی توصیف بھی کی۔ ساتھ ھی انہوں نے اس طویل تبصرے کو اپنی وال پر بھی شئیر کیا۔ اس نے تو گویا عمل انگیز کا کردار ادا کیا۔ ان کے اس اصلاحی اور مشاورانہ تبصرے نے میری آئندہ تحریر کو بہتر کرنے میں بے پناہ مدد کی۔ میرے استاد ٹھہرتے ھیں۔ صدق دل سے ان کا ممنون احسان رھوں گا۔
چند یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے ایران سے متعلق تحریریں پڑھ کر رابطہ کیا۔ بعض نے معلومات حاصل کیں، بعض نے اپنی آراء دیں اور بعض نے غیر متوقع طور پر تعریف بھی کی۔ چند انجان قارئین نے مجھ سے کتاب کی متوقع اشاعت کی بابت بھی دریافت کیا۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ سب کچھ یقیناً حوصلہ افزا تھا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جب محسوس ہوا کہ شاید مشاہدات کو صرف فیس بک تحریروں میں دفن کر دینا مناسب نہیں۔
اسی دوران مجھے یہ احساس بھی ہونے لگا کہ تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ ایک تحریر دراصل مصنف کے وقت، تجربے، مشاہدے، غلطیوں، کامیابیوں، ناکامیوں اور بعض اوقات اس کے زخموں کا نچوڑ ہوتی ہے۔ قاری صرف سیاہی سے لکھے ہوئے جملے پڑھتا ہے مگر مصنف جانتا ہے کہ ان جملوں کے پیچھے کتنی راتیں، کتنی پریشانیاں، کتنی الجھنیں اور کتنی خاموش لڑائیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔
اس کتاب کی اشاعت میں "ہم سب"، "مکالمہ"، "اردو کالمز آن لائن" اور مقامی روزنامہ "ملتان ویلی" میں میری تحریروں کی اشاعت سے ملنے والے حوصلے کا بھی بہت کردار ہے۔ ملتان ویلی کے چیف ایڈیٹر جناب ساجد یامین صاحب ھیں۔
میں ان تمام احباب اور اداروں کا دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھ جیسے نوآموز لکھاری کو اظہار کا موقع دیا۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے محسنوں کے ساتھ بھی ناانصافی کر بیٹھتے ہیں۔ "ہم سب" والے آج کل میری ہی کوتاہی کے باعث مجھ سے ناراض ہیں۔ میں اس کتاب کے توسط سے ایک بار پھر ان سے معذرت کا خواستگار ہوں۔ اختلافات اور غلط فہمیاں اپنی جگہ مگر احسانات کا اعتراف باقی رہتا ہے۔
زندگی میں ایسے لوگ کم ملتے ہیں جو آپ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت پر آپ سے زیادہ یقین رکھتے ہوں۔ اگر ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو بہت سی کتابیں کبھی لکھی ہی نہ جائیں، بہت سے فنکار کبھی سامنے نہ آئیں اور بہت سے خواب ہمیشہ خواب ہی رہ جائیں۔
معروف ادیب جناب عارف انیس کی کتاب لکھنے کی بابت ترغیبانہ پوسٹ نے بھی مجھے سنجیدگی سے کتاب لکھنے پر مائل کیا۔ بعض اوقات ایک مختصر سی تحریر، ایک جملہ یا ایک مشورہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ شاید میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
دوستوں، بالخصوص معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر حسان ہاشمی کا تو یوں سمجھئے کہ عملی تعاون بھی شامل ہے۔ مجاہد حسین شاہ کی مسلسل حوصلہ افزائی بھی میرے لیے سرمایہ ثابت ہوئی۔ جب کبھی سستی، مایوسی یا بے یقینی غالب آتی، ایسے دوست کسی نہ کسی صورت میں یاد دلاتے رہتے کہ کتاب مکمل ہونی چاہیے۔
میرے گھر میں میری بیٹی ھدیٰ سعد نے بہت جوش و جذبے........
