menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aabna e Hormuz Aur Naqabil e Shikast Iran

61 0
03.04.2026

آبنائے ھرمز اور ناقابلِ شکست ایران

آبنائے ھرمز دنیا کے تمام ممالک مل کر بھی زبردستی نہیں کھلوا سکتے۔ آٹھ دس ایٹم بمب بھی مار دیں تب بھی نہیں۔ ایران نے کرنا کیا ہے؟ یومیہ فقط ایک ڈرون بھی ایک آئل ٹینکر پر مارتا رھے تو کون آبنائے ھرمز سے گزرنے کی ھمت کرے گا؟ آبنائے ھرمز کو فقط ایران خود اپنی مرضی اور اپنی شرائط پر کھولے گا۔

یہ چند جملے محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ھیں جسے عالمی طاقتیں بھی نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت، اس کا محدود راستہ اور اس کے اطراف میں موجود عسکری صلاحیتیں اسے دنیا کی حساس ترین گزرگاھوں میں شامل کرتی ھیں۔ یہاں روایتی جنگی حکمت عملی اکثر غیر مؤثر ھو جاتی ہے جبکہ غیر روایتی ذرائع جیسے ڈرونز، بارودی سرنگیں اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے اس راستے کو عملاً غیر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے صرف طاقت کا مظاہرہ اس مسئلے کا حل نہیں۔ گزشتہ سال اپریل میں بندر عباس سے کروز شپ کے زریعے آبنائے ھرمز کے ایک جزیرہ قشم کی بھرپور سیاحت کر آیا ھوں جو جزیرہ خارک سے شاید 450 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔

امریکہ اولاََ جزیرہ خارک اور ثانیاً جزیرہ قشم پر حملے کا خواہشمند ہے۔ یاد رھے اگر امریکی پیراٹروپرز یا فوجی ان میں سے کسی بھی جزیرے پر اترے تو ایران اپنے شدید ترین مالی نقصان سے قطع نظر ان جزائر پر اتنی آتش و آھن برسائے گا کہ یہ لشکر زعیم کے لئے قبرستان نہیں بلکہ جہنم بنا دے گا۔ خارک تو ویسے بھی ایندھن کا سٹوریج ہے۔ ایران اس وقت زخمی شیر ہے جو شاید زیادہ خطرناک........

© Daily Urdu