Bari Imam Se Liaquat Bagh Tak
بری امام سے لیاقت باغ تک
جب بھی رات کو لمبی واک کے لیے نکلا ہوں تو کوئی نہ کوئی کہانی راستے میں میری منتظر ہوتی ہے۔ مجھے مشہور زمانہ رائٹر جیفری آرچر کی ایک بات یاد آتی ہے جو اس نے اپنی 36 شارٹ اسٹوریز کے تعارف میں لکھی تھی کہ یہ سب کہانیاں سچی ہیں۔ یہ فکشن نہیں حقیقی زندگی کی کہانیاں ہیں۔ بس اتنا میرا رول ہے کہ انہیں فکشن کا رنگ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے جتنا سفر کیا جہاں ٹھہرے کسی کیفے پر کھانا کھایا وہاں کے سروسز دینے والے یا ویٹرز سب سے کہانیاں سنیں۔ ہر بندے کے پاس کہانی ہے میں ریکارڈ کرتا رہا۔
خیر آج رات کی سن لیں۔ وہی طویل واک کے لیے نکلا۔ تیس چالیس منٹ بعد دور سے ایک بزرگ نظر آئے ساتھ میں کالے برقعہ میں لڑکی نظر آئی۔ قریب گیا تو باریش تھے، عمر شاید پچپن ساٹھ کے پیٹے میں ہوگی۔ بچی کے حلیے سے لگا وہ پندرہ سولہ سال کی ہوگی۔ چہرہ کھلا........
