menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Main Kis Ke Hath Pe Apna Lahu Talash Karun

24 0
04.04.2026

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

4 اپریل 1979 دنوں کی مسافت ہفتوں، مہینوں اور سالوں کا فاصلہ طے کرتے کتنے ہی کیلنڈر تبدیل کرچکی لیکن اپریل کی یہ تاریک اور بھیانک تاریخ گذشتہ 47 برس سے ایک ہی جگہ رکی ہے۔ خون آلود اور وحشت زدہ تاریخ، ایک درندہ صفت ظالم کے ہاتھوں بے قصور اور مظلوم کے دردناک قتل کی تاریخ، عوامی مینڈیٹ کو بوٹوں تلے روند کر جمہوریت کو حرف غلط کی طرح مٹانے کی تاریخ۔ ڈکٹیٹر ضیا کے ہاتھوں ایک منتخب اور جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کی تاریخ۔۔ لیکن بھٹو کو سولی پر چڑھا کر ہمیشہ کے لئے ختم کرنے والے یہ بھول گئے کہ ایک تدبیر فرعون کرتا ہے اور دوسری موسیٰ کا رب، جو اس کے لئے پانی میں رستہ بنا کر پار لگا دیتا ہے اور حاکم وقت کو اس کی تمام تر رعونت سمیت غرق کردیتا ہے۔ قدرت کا اپنا نظام اور اپنا انتقام ہے اور اس کی پکڑ بے شک بڑی سخت ہے۔ آج دشت کربلا میں شہید ہونے والے سرفروشان حق کے پیروکار کا نام تاریخ میں امر اور ان کو مٹانے والوں کا نام لیوا بھی کوئی نہیں۔ تاریخ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔۔ حسین ہے، یزید تھا۔

4 اپریل 1979 ذوالفقار علی بھٹو شہید کو جسمانی طور ختم کرنے والے یہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے شہید کو نابود کر دیا اور اس ملک میں اپنے نام کی تختیاں لگا لی ہیں مگر ایسا نہیں ہوسکا، جانے والا محض ایک نام نہیں ایک نظریہ تھا، جس کی آب و تاب47 برس سے قائم و دائم ہے۔ وہ پاکستان کے لیے فخر اور اعزاز تھا۔ دنیا اس میں پاکستان کا چہرہ دیکھتی تھی ایک غیرت مند قوم کا آبرو مندانہ چہرہ، وقت کی قید و بند سے آزاد اس کی شخصیت اس کے افکار دنیا بھر کے سیاستدانوں، شاعروں اور دانشوروں کے لیے مشعل راہ بن گئے، اس نے نہ صرف اپنے ہم عصروں کو متاثر کیا بلکہ مظلوموں کو ظالموں سے نجات دلانے کی جدوجہدکی۔ ان کی آنکھوں میں جن میں آنسوئوں کے........

© Daily Urdu