menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mujhe Us Deis Jana Hai

40 0
02.03.2026

تسنیم کوثر ایک کمال نثر نگار ہیں۔ چند دن پہلے ان کی ایک کتاب موصول ہوئی جس کا عنوان ہے "مجھے اس دیس جانا ہے"۔ اندرون صفحہ پر حد درجہ دلچسپ جملے لکھے ہوئے تھے۔ "محترم آداب! گذشتہ برس کتاب آپ کو پوسٹ کروائی۔ محکمہ ڈاک نے پھرتی دکھائی اور دو دن بعد کتاب مجھے ہی موصول ہوگئی۔ آج پھر جسارت کر رہی ہوں۔ کتاب پر تاریخ وہی پرانی ہے"۔ ذاتی طور پر تسنیم صاحبہ سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک مصنفہ ہیں۔ مگر میرا قیاس غلط ثابت ہوا۔

کتاب پڑھنے سے پتہ چلا کہ وہ محض نثر نگار نہیں بلکہ باکمال لکھاری ہیں۔ ان کی کتاب بظاہر تو ملائیشیا کا سفر نامہ ہے۔ مگر اصل میں الفاظ، جملوں، مضمون کی ساخت اور زبان پر ان کی گرفت کا ثبوت ہے۔ سفرنامہ بہت ہی کم پڑھتا ہوں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مگر یہ ایک ایسی عمدہ تحریر ہے۔ جو اردو ادب میں ایک نکھرا ہوا اضافہ ہے۔ دو تین نشستوں میں ہی اس کتاب کو پڑھ ڈالا۔ اب اس میں سے چند اقتسابات، پیش کرتا ہوں۔

پیش لفظ میں مصنفہ رقمطراز ہیں: وقت کی تتلی: یہ کب ضروری ہے کہ جو جی چاہے وہی ہوجائے! کہیں حالات انسان کو الجھائے رکھتے ہیں اور کہیں خوف بہت سے شوق دبا دیتا ہے مگر، اس ڈر اور خوف کے باوجود ہر انسان سفر ضرور کرتا ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر اور، کبھی دوسرے ملک جا پہنچتا ہے۔ کوئی روزگار کے لیے، کوئی حصول تعلیم کے لیے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محبت کے رتھ پر سوار ہو کر تنہا ہزاروں میل دور کا سفر کر جاتے ہیں۔ محبت وہ منہ زور جذبہ جو ناممکن کو ممکن بنا دے اور ایک ماں کو اپنی اکلوتی بیٹی سے ملنے کی لگن لگا دے۔ مجھے بھی یہ لگن ہی اس خوبصورت جزیروں والے ہرے بھرے دیس میں لے گئی تھی۔ اس محبت نے ہی مجھے اس سفر پہ اکسایا تھا۔

سلمیٰ اعوان صاحبہ نے حد درجہ سادہ مگر پر تاثیر پیش لفظ رقم کیا ہے۔ تسنیم، ایک اچھی افسانہ نگار: سالوں پہلے کی بات ہے تخلیق کے بانی مدیر اظہر جاوید حیات تھے۔ پرچہ ملا تو ہندوستان کے ایک سفر نامے کا آغاز ہو رہا تھا۔ پہلی قسط ہی ایسی دل موہ لینے والی تھی کہ پڑھ کر تھوڑی دیر تو گم صم ہونے والا سلسلہ ہوا۔ نثر سا........

© Daily Urdu