menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jangon Ke Sodagar

55 0
23.03.2026

عید آئی اور بوجھل سی گزر گئی۔ زمینی حقائق دیکھ کر، خوشی کا عنصر کم سے کم ہوتا چلا گیا۔ مگر میڈیا پر وہی بے حقیقت قسم کے رنگین پروگرامز اور روایتی ٹھٹھے۔ معلوم پڑتا تھا کہ جیسے جعلی خوشی بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح، جیسے حکومتی نمائندے یہ بتانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ہمارے ملک میں کامیاب جمہوریت ہے اور ہاں، کہیں بھول نہ جائیں، معیشت بڑی تیزی سے ترقی کی وہ منزلیں طے کر رہی ہے جو آج تک کسی نے نہیں دیکھی۔

معلوم نہیں وہ کون سی ترقی ہے جو کوشش کے باوجود نظر نہیں آ رہی۔ حقیقت سب کو معلوم ہے۔ مگر مخالف آوازیں خاموش ہیں یا کرا دی گئی ہیں۔ پورا نظام، صرف ایک کیل پر لٹکا ہوا ہے کہ جیل میں قید ایک شخص سے دو صفحوں پر دستخط کروا لیں کہ اب تک جو کچھ ہوچکا ہے، اس پر کوئی بات نہیں ہوگی لیکن اس میں ناکامی دکھائی دے رہی ہے۔ ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے، نظام کو مصنوعی انداز میں مزید جلا دی جا رہی ہے۔

بہر حال، چھوڑیے۔ اب کیا بات کرنی۔ دو چار برس مزید گزر جائیں گے۔ آٹھ دس عیدیں اورآ جائیں گی۔ آپ کو یہی بتایا جا رہا ہوگا کہ حضور، کوئی مسئلہ نہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔

دنیا کی کامیاب قوموں کا جائزہ لیجیے۔ یورپ اور شمالی امریکا کی خیرہ کن ترقی کو پرکھیے، پھر اپنے ملک کی طرف دیکھئے۔ ہمارے ملک کی ساری قومی پالیسیوں کو الٹا کر دیجیے۔ تو آپ کو وہ مغربی ممالک میں سیدھی نظر آئیں گی۔

پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے ہر اس حکمت عملی کو اپنا رہا ہے جو اس کے لیے زہر قاتل ہیں۔ جس سے ملک کے ہر شعبے پر منفی دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

اس کے بر عکس ترقی یافتہ ممالک، ہم سے بالکل متضاد پالیسیاں اپنائے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے، کہ کوئی بھی ترقی یافتہ یا برق رفتاری سے ترقی کرنے والا ملک، جنگ سے دور رہنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اوراس نقطے پر کسی قسم کی کوئی دوسری رائے نہیں ہوتی۔

سپر پاور کی بات نہیں کر رہا۔ کیونکہ دنیا کی تاریخ میں کوئی........

© Daily Urdu