menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Asal Badshah Ke Kandhay

26 0
13.06.2026

ہارون الرشید کا سنہری دور تھا۔ خلیفہ وقت، دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔ ان کی حکومت کی وسعت کا تعین کرنا بہت مشکل تھا۔ بغداد میں سائنس، نت نئے تجربات، صنعت و حرفت اور یونانی فلسفے کے تراجم جاری و ساری تھے۔ حکومت کا سب سے طاقتور ستون برامکہ تھے۔

یہ ایرانی نسل کے لوگ تھے۔ جو ہجرت کرکے بغداد آئے تھے۔ اپنے ساتھ وسیع انتظامی تجربہ اور فلاح و بہبود کے منفرد پروگرام لے کر اس علاقے میں وارد ہوئے۔ اس خاندان کو عباسی دور خلافت میں اتنا عروج ملا کہ لوگ انھیں ہی بادشاہِ وقت سمجھتے تھے۔ یحییٰ برمکی اور خلیفہ کی طاقت میں انیس بیس کا فرق تھا۔ برامکہ کے محلات خلیفہ وقت سے زیادہ خوبصورت اور سطوت کے نشان نظر آتے تھے۔ اہل برامکہ عملی طور پر حکومت کر رہے تھے۔

ایک دن محمد ابن خالد بن برمک اپنے بھائی کو تلاش کرتے کرتے ہارون الرشید کے محل میں پہنچا۔ بذات خود گورنر کے عہدے کا حامل تھا۔ ساتھ ساتھ خلیفہ کے محل کی تمام ذمے داریاں اس کے کندھوں پر تھیں۔ چوب داروں نے بتایا کہ آپ کا بھائی جو بذات خود وزیر بھی تھا اور ہارون الرشید سے حد درجے خوشگوار مراسم کا حامل تھا۔ محل کے پیچھے پائیں باغ میں موجود ہے۔ محمد ابن خالد بغیر کسی روک ٹوک کے محل کے خصوصی حصے میں چلا گیا۔

جیسے ہی وہ باغ میں داخل ہوا تو ذہنی طور پر بہت بڑا جھٹکا لگا۔ معلوم پڑتا تھا کہ کسی بلا کو دیکھ لیا ہو۔ پسینے میں ڈوبا ہوا گورنر الٹے پاؤں خلیفہ ہارون الرشید کے محل سے نکلا۔ کانپتا ہوا اپنے خوبصورت محل کی طرف دوڑنے لگا۔ لگتا تھاجیسے موت کا فرشتہ اس کے تعاقب میں ہے۔ دو دن تک اپنی خواب گاہ میں لیٹا رہا۔ کسی سے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔ تیسرے دن خلیفہ وقت کے دربار میں پہنچا تو ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ یہ کاغذ دراصل امان نامہ تھا۔ اس پر درج تھا کہ خلیفہ، خالد برمکی اور اس کے پورے خاندان کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور انھیں امان دی جاتی ہے۔ ہارون الرشید نے جب یہ کاغذ پڑھا تو ششدر رہ گیا۔ برامکہ اس کے سب سے اعتماد........

© Daily Urdu