Amnesty Scheme Ki Ashad Zaroorat Hai
ایمنسٹی اسکیم کی اشد ضرورت ہے
فیلڈ مارشل کی قیادت میں، پاکستان نے جو کامیاب سفارت کاری کی ہے۔ اس سے ملکی اور غیر ملکی سطح پر ہماری توقیر میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد میں، دو حد درجہ متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا حد درجہ منفرد بات ہے۔ اس تمام محنت کا سہرا، عاصم منیر اوران کی ٹیم کوجاتا ہے۔
ذمے داری سے عرض کر رہاہو کہ اس دشوار اور نازک ترین کام کی براہ راست نگرانی اگر فیلڈ مارشل بذات خود نہ کر رہے ہوتے، تو شاید کامیابی سمیٹنا ممکن نہ ہوتا۔ سیاسی ٹیم میں وزیر خارجہ کی بھاگ دوڑ، سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد کیا حالات ہوں گے، اس پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے؟ گمان یہی ہے، کہ یہ عارضی صلح، مستقل بنیادوں پر ٹھوس معاہدوں کی بنیاد ضرور بن سکتی ہے۔ اس سفارتی کامیابی کے خلاف، ہمسایہ ملک میں جو سینہ کوبی کی جا رہی ہے، وہ دیدنی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہندوستان کے کئی سنجیدہ مبصرین ہمارے متعلق اتنی ادنیٰ گفتگو فرما رہے ہی کہ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ بلکہ ان کے متعلق گمان ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات کی نزاکت کوسمجھنے سے قاصر ہیں اور پاکستان دشمنی میں اندھے ہوکر جو جی میں آئے، فرمائے جا رہے ہیں جو اکثر لایعنی معلوم پڑتا ہے۔ ہندوستان میں پراون ساہنی جیسے مدبر، تجزیہ کار انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس پورے معاملے کوغیر متعصب انداز پر دیکھتے ہیں۔ پراون ساہنی برملا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان، پورے ایشیاء میں ایک بہت کامیاب طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے، وہ ایک مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی بدولت، ایک سفارتی........
