Adliya: Jamhooriat Ka Aakhri Sutoon Aur Awam Ke Aitmad Ki Aakhri Umeed
عدلیہ: جمہوریت کا آخری ستون اور عوام کے اعتماد کی آخری امید
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے، حکومت بنانے اور اقتدار منتقل کرنے کا نام نہیں۔ جمہوریت دراصل ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا وہ معاہدہ ہے جس میں اقتدار آئین کا پابند اور قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔ جب یہ اعتماد قائم رہتا ہے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے اور جب یہ اعتماد مجروح ہونے لگے تو بڑے سے بڑا ریاستی ڈھانچہ بھی اندر سے کمزور پڑنے لگتا ہے۔
ریاست کی عمارت تین بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے: انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ۔ انتظامیہ ریاستی امور چلاتی ہے، مقننہ قانون بناتی ہے، مگر عدلیہ یہ طے کرتی ہے کہ اختیار کہاں تک ہے، قانون کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور شہری کا حق کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے عدلیہ محض ایک ریاستی ادارہ نہیں، عام شہری کے لیے یہ داد رسی کی آخری چوکھٹ ہے۔
غریب ہو یا امیر، کمزور ہو یا طاقتور، عام شہری ہو یا کوئی معروف شخصیت، جب اس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو وہ عدالت کی طرف دیکھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر ریاستی طاقت اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی ہے تو قانون اس کے ساتھ کھڑا ہوگا، اگر اس کا حق چھین لیا گیا ہے تو آئین اس کی حفاظت کرے گا اور اگر اس پر ظلم ہوا ہے تو عدالت اس ظلم کو قانون کی زبان میں پرکھے گی۔
یہ یقین ہی دراصل ریاست کی اصل طاقت ہے۔ عدالت ہر نقصان واپس نہیں کر سکتی۔ جو جان چلی گئی اسے واپس نہیں لایا جاسکتا، جو وقت گزر گیا اسے پلٹایا نہیں جا سکتا، ہر زخم کو مکمل طور پر مٹایا نہیں جا سکتا۔ مگر عدالت ایک بنیادی کام ضرور کر سکتی ہے وہ ظلم کو ظلم قرار دے سکتی ہے، مجرم کو قانون کے مطابق سزا دے سکتی ہے اور مظلوم کو یہ یقین دلا سکتی ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی ریاست کی نظر میں بے معنی نہیں تھی۔
اگر کسی شخص کا قتل ہو جائے تو عدالت مقتول کو واپس نہیں لا سکتی، مگر وہ قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لا سکتی ہے۔ وہ یہ اعلان کر سکتی ہے کہ انسانی جان کی حرمت پامال کرنے والا قانون سے بالاتر نہیں۔ سزا محض انتقام نہیں، سزا معاشرے کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ظلم کا ایک قانونی انجام ہوتا ہے۔
اسی طرح عدالت کا کام صرف سزا دینا بھی نہیں۔ عدالت تنازعات سنتی ہے، ثبوت اور دلائل کا جائزہ لیتی ہے، فریقین کے درمیان قانونی راستہ نکالتی ہے اور جہاں قانون اجازت دے وہاں صلح و مصالحت کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ یوں عدالت معاشرے کو انتقام، طاقت اور ذاتی اثر و رسوخ کے بجائے قانون، دلیل اور انصاف کی طرف لے جاتی........
