menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Betiyan, Bahu Aur Saas

21 0
15.07.2026

بیٹیوں کو دیکھیں کتنی معصوم ہیں۔ کمپرومائز کرتی ہیں، سمجھ جاتی ہیں، ہمارے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ میری بیٹیوں کو کوئی کچھ کہہ دے، مجھ سے گوارا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ میرے والد ہی انہیں ڈانٹ دیں تو میرے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ وہ روتی ہیں تو میرے آنسو بھی بہنے لگتے ہیں۔ وہ کچھ مانگتی ہیں تو اسے پورا کرنے کو دل مچلنے لگتا ہے۔ ان کے تھکنے، ان کی تکلیف اور آرام کا کتنا احساس ہوتا ہے۔ ان کی پسند ناپسند کا کس قدر خیال رکھتے ہیں۔ کبھی تنہا کہیں نہیں جانے دیتے۔

اور پھر ایک دن ہم انہیں تنہا بھیج دیتے ہیں، ایک بھرے پورے گھر میں۔ جہاں کوئی بھی اسے کچھ بھی کہہ دے تو اس نے صبر کرنا اور سہنا ہے۔ جہاں اس کی پسند ناپسند کوئی معنی نہیں رکھتی۔ جہاں اس کے ہر عمل پر نظر ہو۔ جہاں اسے دوسروں کے مطابق جینا ہو۔ جہسں وہ بیماری کی حالت میں خدمت گزار بنے کھڑی دکھائی دے۔ کس قدر مشکل ہے۔

کیا معاشرتی رویوں میں تبدیلی ضروری نہیں؟ کیا ایک بچی کو جس طرح وہ ہے ویسے قبول کرنے میں کیا حرج ہے، جو کہ اس کا فطری حق ہے؟ اسے مکمل توڑ پھوڑ کر ایک نیا انسان بنانے سے بہتر نہیں؟ پھر سارے کمپرومائز اسی سے ڈیمانڈ کیے جائیں، مگر خود لوگ ٹس سے مس نہ ہوں۔ گو کہ سب لوگ ایسے نہیں، مگر اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے۔ بظاہر........

© Daily Urdu