Aabna e Hormuz Ke Pani Pur Sakoon Nahi Honge
آبنائے ہرمز کے پانی پرسکون نہیں ہوں گے
8 جولائی 2026 کی رات، آبنائے ہرمز کے پانی ایک بار پھر بارود کی بو سے بھر گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف تازہ فضائی کارروائی کی ہے۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ خلیج میں تجارتی جہاز رانی کی آزادی کو محفوظ بنایا جائے۔ یہ خبر محض ایک فوجی بلیٹن نہیں تھی۔ یہ ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک اور بے خواب رات کا اعلان بھی تھی۔ کویت، بحرین اور قطر کے شہروں میں سائرن کی آوازیں گونجیں اور لوگ خوفزدہ ہو کر جاگ اٹھے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل نیٹو اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ ان کا یہ بیان دراصل اس نئی کارروائی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
7 جولائی کی رات امریکی افواج نے ایران کے 80 سے زائد فوجی اہداف پر حملہ کیا۔ ان اہداف میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات اور انقلابی گارڈز کی 60 سے زائد کشتیاں شامل تھیں۔ یہ کارروائی دراصل ایک ردعمل تھی۔ مبینہ طور پر ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری ایل این جی بردار جہاز سمیت تین تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تھا۔ سینٹرل کمانڈ نے اس عمل کو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ اگلے ہی روز، 8 جولائی کو، امریکی افواج نے مزید کارروائی کی۔ اس بار مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرہ بنانے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا بتایا گیا۔ یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ کیا یہ محض دفاعی اقدام تھا یا طاقت کے مظاہرے کی ایک اور کڑی؟ ایران نے اس........
