Aabna e Hormuz, Jang Ka Dahana Aur Pakistan Ki Azmaish
آبنائے ہرمز، جنگ کا دہانہ اور پاکستان کی آزمائش
آبنائے ہرمز نقشے پر ایک تنگ سا راستہ دکھائی دیتا ہے، مگر دنیا کی معیشت، خطے کی سیاست اور عام آدمی کے روزمرہ خرچ کا ایک حصہ اسی سے بندھا ہوا ہے۔ جب وہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو صرف بحری راستے غیر محفوظ نہیں ہوتے، منڈیاں اثر انداز ہوتی ہیں، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے اور اس کا اثر آخرکار ان گھروں تک پہنچتا ہے جہاں پہلے ہی مہینے کے آخر میں حساب ملانا مشکل ہوتا ہے۔
اسی لیے آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی موجودہ کشیدگی کو صرف ایک دور دراز سفارتی بحران سمجھنا غلط ہوگا۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ نے خطے کو مستقل خطرے کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ جنگ بندی کی بات ہوتی ہے، پھر اس کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آتے ہیں، پھر سفارتی رابطوں کی خبریں آتی ہیں اور اسی دوران سمندر میں خوف برقرار رہتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو ہر واقعہ اپنے حجم سے بڑا دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایک حملہ، ایک غلط اندازہ، ایک اشتعال انگیز بیان، یا ایک عسکری حرکت، پوری فضا کو پھر سے آلودہ کر سکتی ہے۔
ایسے وقت میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے سب سے پہلے توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ نہ یہ کہنا درست ہے کہ سارا بوجھ پاکستان پر ہے، نہ یہ کہ پاکستان غیر متعلق ہے۔ اس بحران کا اصل مرکز وہ فریق ہیں جو براہ راست اس کشمکش میں شامل ہیں یا جن کے فیصلوں سے اس کشیدگی کی سمت طے ہوتی ہے۔ جنگ ہو یا جنگ بندی، حملہ ہو یا جواب، الزام ہو یا انکار، اس سب کی بنیادی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نہ اس........
