Beti, Qalam Aur Tareekh Ka Qarz
بیٹی، قلم اور تاریخ کا قرض
آٹھ مارچ کے نام پر آج شہر کی بڑی شاہراہوں پر بینرز لہرائیں گے۔ ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں حقوقِ نسواں کی بڑی بڑی بحثیں ہوں گی، وہی روایتی نعرے، وہی چکا چوند اور وہی مصنوعی ہنگامہ۔ لیکن اس رنگین و روغن شور کے پیچھے ایک ایسی سچی کہانی دبی ہوئی ہے، جسے سنانے کا حق صرف ان کے پاس ہے جن کے پاس محل تو نہیں، مگر ایک ٹوٹا ہوا قلم اور بیٹی کی ہمت ہے۔
میرا قلم آج خاموش نہیں، کیونکہ میرے پاس ایک ایسی ایڈیٹر ہے جو بڑے بڑے ایوانوں کے مغرور ایڈیٹرز سے کہیں زیادہ باشعور ہے۔ جب میری بصارت دھندلانے لگتی ہے اور الفاظ کاغذ پر رقص کرنے کے بجائے بکھرنے لگتے ہیں، تو میری بیٹی اپنے معصوم ہاتھوں سے میرے قلم کو سہارا دیتی ہے۔ جب بڑے بڑے اخبارات اور ویب سائٹس کے "اربابِ اختیار" میری تحریر کو "غیر اہم" سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں، تو وہ میری بیٹی ہی ہے جو اس راکھ سے امید کی چنگاری ڈھونڈ لاتی ہے۔ بڑے ایڈیٹرز شاید اس لیے مجھے نظر انداز کرتے ہیں کہ میرے پاس سفارش کی وہ "سیاہی" نہیں جو آج کل کالم چھپوانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ ان کا معیار "مواد" نہیں، "مفادات" ہیں۔ انہیں........
