menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Thar Ke Bachon Mein Laaiq e Ehteram Taleem Ki Talab Ki Shiddat

46 0
09.10.2026

تھر کے بچوں میں لائقِ احترام تعلیم کی طلب کی شدت

حکومت اور تحریک انصاف کی سیاسی ترجیحات سے لاتعلق اور بے نیاز پاکستانیوں کی اکثریت بھی گزشتہ کئی دنوں سے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج کے نفاذ کے انتظار کو مجبور بنادی گئی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا نفاذ ہمارے حکومتی بندوبست ہی کو دھچکا نہیں لگائے گا، اس کے منفی اثرات معاشرتی اعتبارسے نسلی تفریق کو بھی بڑھاوا دے سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے پریشان ہوجاتا ہوں۔

گھبراہٹ کے اس عالم میں ایک نیا قضیہ اٹھ کھڑا ہوا۔ "شہر کراچی" کے جذبات کی خود ساختہ اجارہ دار ہوئی ایک جماعت دہائی مچارہی ہے کہ سرکار کی جانب سے چلائے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے ایم ڈی کیٹ کے نام سے حال ہی میں جو امتحان ہوا ہے اس کے انجام پر ان کے شہر کاکوئی بچہ یا بچی امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والے ٹاپ -20میں شامل نہیں تھے۔ یہ تعداد ناقابل اعتبار ہے۔ مزید حیرت اس حقیقت کو اچھالتے ہوئے بھی نمایاں کی جارہی ہے کہ امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والے طلبہ کی کثیر تعداد تھرپارکر سے تعلق رکھتی ہے۔

تھرپارکر ہمارے "قومی میڈیا" کی بدولت "بھوک سے بلبلاتے" بچوں کی اموات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ مذکورہ شناخت کے تناظر میں یہ کہانی فروغ دینا آسان ہوگیا کہ حال ہی میں میڈکیٹ کا جو امتحان ہوا اس میں "وڈیروں کی حکومت" نے دھاندلی اور بدعنوانی کی پشت پناہی کی ہوگی۔ "شہری" اور "دیہی" سندھ کی بنیاد پر 1980ء کی دہائی سے سنگین تر ہوتی تفریق کو مذکورہ الزام کے ساتھ بھڑکانے کی کاوش ہورہی ہے اور بدقسمتی سے "قومی میڈیا" اس کا معروضی تجزیہ کرنے میں دلچسپی نہیں دکھارہا۔

ذاتی حوالوں سے زندگی کے مشکل ترین اور نہایت خوش........

© Daily Urdu