Oman Mein Mumkin Hue America Iran Muzakrat
بدھ کی رات سونے سے قبل یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے امکانات معدوم ہورہے ہیں۔ جمعرات کی صبح اٹھ کر مگر ایرانی وزیر خارجہ کا سوشل میڈیا کے ایکس پر ایک پیغام دیکھا۔ نہایت اعتماد سے انہوں نے یہ اطلاع دی ہوئی تھی کہ امریکہ کے ساتھ ان کے ملک کے مذاکرات جمعہ کی صبح دس بجے اومان کے شہر مسقط میں شروع ہوجائیں گے۔ جی کو تسلی ہوگئی۔ کامل اطمینان لیکن میسر نہیں ہوا۔
عالمی امور کے بارے میں فکر مندی عرصہ ہوا چھوڑ رکھی ہے۔ صحافی نہ بھی ہوتا تب بھی ایران کے امریکہ کے ساتھ بگڑتے معاملات کے بارے میں بطور پاکستانی لاتعلق رہ نہیں سکتا تھا۔ تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بھی اس حقیقت کو بھلایا نہیں جاسکتا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ اس خطے میں پاکستان اور اس کے عوام کے لئے بے تحاشہ پریشانیاں کھڑی کردے گی۔
بنیادی وجہ اس کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ہے۔ تیل کے حوالے سے دیگر ممالک پر کامل انحصار کی وجہ سے اس کی قیمت میں ایک ڈالر کا اضافہ بھی پاکستان میں اشیائے صرف کی قیمتوں کو مزیدناقابل برداشت بنادیتا ہے۔ گزشتہ دوبرسوں کے دوران ہمارے ہاں افراطِ زر میں کمی ہوئی۔ معیشت مستحکم ہوتی نظر آئی تو اس کی اہم وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کا استحکام بھی تھا۔ اس کی بدولت ہم آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط پر کڑھتے ہوئے بھی عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ ا مریکہ اور ایران کے مابین ایک بھرپور جنگ تیل کی قیمت کو آسمان کی طرف لے جانا شروع ہوجائے گی۔
میرے ایک مہربان دوست اقتصادی معاملات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ وہ مصر ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کے ایک بیرل کی قیمت اگر80ڈالر سے بڑھنا شروع ہوگئی تو ہمارے ہاں مہنگائی عذاب کی صورت اختیار کرلے گی۔ 2022ء کے برس سے ملکی........
