menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Net Meteron Ki Taaron Ki Chori Se Jure Mazeed Waqiat

47 0
18.08.2026

نیٹ میٹر کی تاروں کی چوری سے جْڑے مزید واقعات

میرے گھر سے نیٹ میٹر کے ساتھ لگی تاروں کی چوری پر لکھے کالم کو قارئین کی متاثر کن تعداد نے پڑھا۔ ملک بھر سے اس کے بارے میں مثبت اور منفی تبصرے مسلسل آرہے ہیں۔ سوشل میڈیائی تلنگوں کی ہذیانی تنقید وضاحتوں کے قابل نہیں۔ کالم کو پر خلوص انداز میں سراہنے والے بھی لیکن یہ کہنے سے باز نہ رہ سکے کہ شکر ہے کہ مجھے مقامی سیاست اور عالمی امور پر جگالی کرتے کالموں کے بجائے عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل پر توجہ دینے کی فرصت ملی۔ کراچی سے تبصرہ کرنے والوں میں سے تقریباََ ہر ایک نے شکوہ کیا کہ بجلی کی ترسیل کے نظام میں تاروں اور میٹروں کی چوری اس شہر کے تقریباََ ہر گھر کی کہانی ہے۔ اسلام آباد کے ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں پھیرے لگاتے مجھ جیسے افراد مگر ان کے مسائل یوں نظرانداز کردیتے ہیں جیسے وہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر نہیں بلکہ کسی اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔

کراچی کے قارئین کی جارحانہ تنقید سے میں خفا نہیں ہوا۔ اپنے دفاع میں فقط یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میرے گھر میں اگر نیٹ میٹر سے جڑی تاریں چور کاٹ کر اپنے ساتھ نہ لے جاتا تو میں آج بھی یہ جان نہ سکتا کہ نیٹ میٹر کے ساتھ نصب ہوئے تاروں کا جال جرائم کے عادی افراد کے لئے کتنا قیمتی ہے۔ کراچی ہی نہیں بلکہ بقراطی کے شوق میں یہ خاکسار اسلام آباد کی روزمرہ زندگی سے جڑے عام آدمی کے مسائل سے کماحقہ انداز میں آگاہ نہیں۔ اپنی غفلت کے بارے میں شرمسار ہوں اور کوشش ہوگی کہ ان پر توجہ مبذول رکھی جائے۔

اکثر قارئین کا خیال تھا کہ جن تاروں کی چوری کے بارے میں لکھا گیا اسے نشے کے عادی افراد اپنی "خوراک" کے لئے چوری نہیں کرتے۔ وہ درحقیقت جرائم پیشہ گروہوں کے کارندے ہوتے ہیں اور تاروں کی چوری سے مختص گروہ کا........

© Daily Urdu