Musalsal Zawal Ki Zad Mein Aaya Bartania
مسلسل زوال کی زد میں آیا برطانیہ
مشن ہائی سکول رنگ محل لاہور میں پرائمری جماعتوں سے گزرتے ہوئے یہ سیکھا تھا کہ برطانیہ کا اصلی اور نسلی گورا جذبات سے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔ مردوں کے بارے میں تو خاص طور پر یہ فقرہ یاد رہا کہ "Men Don't Cry (مرد روتے نہیں)"۔
عمر کے آخری حصے میں پیر کی دوپہرکھانے کے قریب سوشل میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم اسٹارمر مستعفی ہونے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ میز پر بیٹھنے سے قبل لہٰذابی بی سی لگالیا۔ روٹی کا پہلا نوالہ منہ میں ڈالا تو وزیر اعظم کی براہ راست دکھائی تقریر کا آغاز ہوگیا۔ برطانوی سیاست میں کسی بھی نوعیت کی دلچسپی نہ رکھنے کے باوجود اسے بغور سننے کو مائل ہوا اور شدید حیرت اس وقت ہوئی جب تقریر ختم کرنے کے قریب اسٹارمر کی آواز فرطِ جذبات سے بھرا گئی۔
سیاست کی بدولت وہ بیوی اور بچوں کو مناسب وقت نہیں دے پایا تھا۔ وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہوجانے کے بعد اس نے خاندان کو نظرانداز کئے جانے کا کفارہ ادا کرنے کا عہد باندھا۔ مائیک سے دور ہوتے ہی بیوی کو گلے لگایا اور اس کا ہاتھ تھامے برطانوی وزیر اعظم کے گھر کی جانب چل پڑا۔ وزیر اعظم کی سرکاری قیام گاہ کے باہر نصب بند دروازے پر 10نمبر لکھا تھا۔ جس گلی میں یہ مکان ہے اسے Downing Street پکارا جاتا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس نام نے لیکن مجھے انگریزی کا لفظ (Down)یا ددلایا۔ اسٹارمر کی جذبات سے مغلوب ہوتی آواز اور برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری قیام گاہ کے ایڈریس نے (Down)کے تناظر میں زوال کے لفظ پر غور کو مجبور کردیا۔ پیغام یہ ملا کہ برطانیہ جو آج سے فقط سو برس قبل تک ایک ایسی سلطنت تھا جہاں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا اب مسلسل زوال کی........
