Jamhuriat Se Na Khush America Ki Agli Chaal Ki Muntazir Dunya
پوری دنیاکو میرے خیال میں ڈونلڈٹرمپ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود موصوف منافق نہیں۔ نہایت ڈھٹائی مگر خلوص سے یہ حقیقت اجاگر کئے چلے جارہے ہیں کہ ان کا دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتا ملک دنیا کے دیگر ممالک میں جمہوری نظام کو متعارف ومستحکم بنانے میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتا۔ کسی بھی ملک کے قدرتی وسائل مثال کے طورپر تیل اور اب پٹرول کے بغیر گاڑی چلانے اورکمپیوٹر کو جدید تر بنانے کیلئے درکار نایاب معدنیات اس کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کے حصول کے لئے وہ ایسے وسائل سے مالا مال ممالک کے "جاہل" عوام کو جابر گڈریے جیسے سلطانوں کی نگرانی کا یرغمال بنانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔
پاکستان خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ایسے وسائل سے قدرتی گیس کے علاوہ محروم نظر آتا رہاہے۔ اب نایاب معدنیات سے مالا مال ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ مذکورہ امکانات کا ذکر سنتے ہی مجھ جیسے گنہگار رسمِ دُعا بھول جانے کے باوجود ربّ کی پناہ مانگنے کے لئے ہاتھ اٹھالیتے ہیں۔ قدرتی وسائل سے نظربظاہر محرومی بھی 1950ء کی دہائی میں ہمیں "امریکی محبت" سے محفوظ نہیں رکھ پائی تھی۔ سوویت یونین کے تقریباََ ہمسایہ میں برطانوی سامراج کی تربیت یافتہ فوج اور افسر شاہی کے زیر اثر ملک کو جمہوریت سے محفوظ رکھنے کے لئے جنرل ایوب جیسے "دیدہ ور" کی پشت پناہی کا فیصلہ ہوا۔
امریکی صدر کنیڈی کی اہلیہ جیکولین نے موصوف کی "مردانہ وجاہت" کو برسرعام سراہا۔ اپنی وجاہت پرمان کرتے ہوئے ایوب خان امریکی نائب صدر جانسن کے گالوں پر شرارت آمیز چٹکیاں بھرتے رہے۔........
