Iss Mozu Par Mazeed Likhne Ki Himmat Nahi
اس موضوع پر مزید لکھنے کی ہمت نہیں
زندگی کی کئی دہائیاں صحافت کی نذر کردینے کے باوجود خود کو عقل کل تصور کرنے کی بیماری سے محفوظ رہا ہوں۔ بانی تحریک انصاف کی صحت کے بارے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں سرکاری طورپر تشکیل دئے ڈاکٹروں کی مرتب کردہ جو رپورٹ جمع کروائی گئی تھی اسے غور سے پڑھنے کے بعد رائے زنی کی جسارت کی۔ وجہ اس کی فقط میرا فشارِ خون کا مریض ہونا تھا۔ اسے قابو میں رکھنے کے لئے گزشتہ دس برسوں سے ناشتے کے ساتھ ڈاکٹروں کی تشخیص کردہ ایک گولی استعمال کرتا رہا ہوں۔ تقریباََ ایک سال قبل مگر اچانک یہ دریافت ہوا کہ میرا بلڈ پریشر اکثر بے قابو ہوجاتا ہے۔ اس کا غیر معمولی اتار چڑھائو مجھے فالج یا دل کا مریض بھی بناسکتا ہے۔
مناسب تشخیص کے لئے مختلف النوع ٹیسٹوں سے گزرنا پڑا۔ ربّ کا صد شکر کہ دل فی الوقت میری عمر کے حساب سے صحت مند ٹھہرایا گیا۔ فالج کا خطرہ ٹالنے کے لئے مگر خون پتلا کرنے والی گولیوں کے علاوہ دل کی صحت برقرار رکھنے کو نئی ادویات تشخیص ہوئیں۔ دل ودماغ پر حاوی تشویش کو قابو میں رکھنا بھی ایک اور دوائی کے استعمال سے یقینی بنانے کی کوشش ہوئی۔ بلڈ پریشر کو معمول میں رکھنے کیلئے میری ادویات بدل دی گئیں۔ یہ محض اتفاق تھا کہ عمران خان صاحب کو بلڈ پریشر کے لئے جو دوا سرکاری میڈیکل بورڈ نے تجویز کی تھی وہ میرے بھی زیر استعمال ہے۔ اس کی قوت /طاقت یا ڈوز خان صاحب کے لئے تجویز ہوئی دوا سے مگر زیادہ ہے۔
دل کی صحت کا تعین کرنے کے مختلف ٹیسٹوں کے جن مراحل........
