menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hukumati Numaindon Ki Batai Muzakrat Ki Nakami Ki Kahaniyan

37 0
06.10.2026

حکومتی نمائندوں کی بتائی مذاکرات کی ناکامی کی کہانیاں

اتوار کی صبح طلوع ہونے سے قبل حکومت اور تحریک انصاف کے مابین 13گھنٹوں سے جاری اور مختلف ادوار تک پھیلے مذاکرات ناکام ہوگئے تو ذاتی طورپر آئین کے آرٹیکل 232یا 234کے نفاذ کا انتظار شروع کردیا۔ فیلڈ میں متحرک اپنے نوجوان ساتھیوں کے برعکس مجھے مذکورہ مذاکرات کے کامیاب ہونے کی ویسے بھی امید نہیں تھی۔ پشاور میں مقیم ساتھیوں سے مسلسل رابطے کی بدولت دریافت یہ کیا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے فیصلے پر ڈٹ چکے ہیں۔ انہیں اس سے باز رکھنے کے لئے حکومت کو محض لیپا پوتی دکھائی دیتی نہیں بلکہ ٹھوس رعایتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ رعایتوں کی جو نوعیت اس تناظر میں ذہن میں آئی اسے فراہم کرنا مگر حکومت کے بس میں نہیں نظر آرہا تھا۔

پیر کے روز چھپے کالم میں عرض کرچکا ہوں کہ ریاست کے دائمی ادارے نہ صرف اپنی بلکہ چند برادر ممالک کی فراہم کردہ ٹھوس معلومات کی بنیاد پر یہ ذہن بناچکے ہیں کہ 2021ء میں فاتح بن کر لوٹے طالبان پاکستان کو ہر صورت غیر مستحکم بنانا چاہ رہے ہیں۔ اس خواہش کو بروئے کار لانے کے لئے جنگی حوالوں سے اس حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے جسے انگریزی کے ایک فقرے میں "دشمن کو سو زخم لگاکر نڈھال کرنا" کہا جاتا ہے۔

تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت وفاقی اداروں کو کابل میں بیٹھے طالبان کی سو زخم لگانے والی حکمت عملی سے لاتعلق نظر آرہی تھی۔ ریاست کے دائمی اداروں اور خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات میں لہٰذا یکسوئی........

© Daily Urdu