Hukumat Ka Mumkina Agla Faisla Kun Qadam, Article 232
حکومت کا ممکنہ اگلا فیصلہ کن قدم، "آرٹیکل 232"
سوشل میڈیا کے پھیلائے ہیجان کی بدولت نہایت سوچ بچار کے بعد اپنی رائے کا اس کالم میں اظہار عموماََ وقت کا زیاں محسوس ہوتا ہے۔ اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوشل میڈیا کا پھیرا لگانے کے بعد نہایت ڈھٹائی سے مجھے یہ اعلان کردینا چاہیے کہ سہیل آفریدی نے 27ستمبر کے روز طے ہوئے لانگ مارچ کو 4اکتوبر تک مؤخر کرتے ہوئے حکومت کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔
تحریک انصاف کے احتجاجی کارکنوں میں سے کسی ایک کو بھی آئندہ سات دنوں کے دوران اسلام آباد آنے کا تردد درکار نہیں ہوگا۔ پاکستان کا دارالحکومت مگر اس پورے عرصے میں کنٹینروں کی مدد سے بنائی دیوار کے حصار میں نظر آئے گا۔ ملک بھر سے کٹے اسلام آباد میں روزمرہ زندگی یوں مفلوج ہوئی محسوس ہوگی اور تحریک انصاف ٹی-20 میچ کے بجائے ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے حکومت کو تھکا تھکا کر ہلکان کرنے کی خواہش میں کامیاب ہوتی نظر آئے گی۔ سوشل میڈیا کا طالب علم ہوتے ہوئے مجھے کامل اعتماد ہے کہ مذکورہ بنیادوں پر لکھے کالم کو توقع سے زیادہ لائیکس اورشیئرز ملیں گے۔
منطق کے ٹھوس حقائق پر اطلاق کے نتیجے میں حکومتی بندوبست سے نفرت کرنے والوں کا جی بہلانے والی رائے کے برعکس اخذ کئے نتائج اس "ٹاؤٹ" قلم گھسیٹ کو ایک بار پھر بے نقاب کردیں گے۔ ستائش کی ہوس لیکن کبھی لاحق نہیں رہی۔ پرانی وضع کی صحافت سوچ سمجھ کر لکھنے کو مجبور کرتی ہے۔
آج کے موضوع پر مزیدبڑھنے سے قبل کھلے دل سے یہ حقیقت اجاگر کرنا ہوگی کہ اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کے برعکس جواں سال ہوتے ہوئے بھی سہیل آفریدی نے 27ستمبر کے روز "اٹک کے اُس پار "سے اسلام آباد پر ایک اور یلغار کا تاثر دینے سے حیران کن حد تک اجتناب برتا۔ موصوف نے پرخلوص دِکھتی لگن سے "سٹریٹ موومنٹ" گرمانے کے لئے سندھ اور پنجاب کے دورے کئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا رویہ موصوف کے خلاف........
