menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dam Torti Hamari Riwayati Sahafat

7 1
05.02.2026

مجھ جیسے سادہ لوح صحافی پاکستان کے جمہوری بندوبست کے "ہائی برڈ" ہوجانے کے بعد اداس، شرمندہ اور پریشان محسوس کرتے ہیں۔ ہائی برڈ نظام کی بدولت ریاست و حکومت کے اہم ترین فیصلے پارلیمان کے ایوان میں نہیں بند کمروں میں ہوتے ہیں۔ ان فیصلوں کی خبر مصدقہ ذرائع سے مل بھی جائے تو اسے ہو بہو بیان کرنے سے خوف آتا ہے۔ جن ذرائع سے مذکورہ خبر ملی ہوتی ہے وہ عدالت میں پیش ہوکر اس امر کی تصدیق کرنے کو آمادہ نہیں ہوں گے کہ ان کے ساتھ فلاں دن فلاں مقام یا ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں "اندر کی خبر" باہر آئی۔

"اندر کی خبر" چھپانا مگر اب پاکستان جیسے نیم جمہوری ملکوں کی اشرافیہ کا مسئلہ ہی نہیں رہا۔ امریکہ خود کو دنیا کا سب سے طاقتور اور کامل جمہوری ملک کہلاتا رہا ہے۔ ٹرمپ کے وائٹ ہائوس لوٹ آنے کے بعد مگر صحافیوں کو وہاں کی وزارتِ دفاع سے خبروں کے حصول کیلئے ایک حلف نامے پر دستخط کو مجبور کیا گیا۔ اس کے ذریعے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ صحافی سرکاری بریفنگ سے جاری ہوئی خبروں کے علاوہ "اندر کی خبریں" ڈھونڈنے کے لئے وزارتِ دفاع کے افسران کے ساتھ نجی رابطوں سے گریز کریں گے۔ ایسے روابط "اچانک" یا سماجی حوالوں سے ہو بھی جائیں تو ان کے دوران ملی "خبروں" کو شائع یا نشر کرنے سے قبل وزارت دفاع سے اجازت لی جائے گی۔

قصہ مختصر حکم یہ ہے کہ صحافت کی آزادی یقینی بنانے والی آئینی شقوں کے ہوتے ہوئے بھی امریکی وزارت دفاع کے بارے میں صرف وہی "خبر" دی جائے گی جو اس وزارت کے حکام یاتو سرکاری طورپر جاری کریں یا اپنے پاس آئی رپورٹر کی بھیجی خبر کا متن دیکھ کر اسے چھاپنے یا نشر کرنے کی اجازت دیں۔ امریکہ میں بھی روایتی صحافت دم توڑ رہی ہے۔ چند ادارے مگر اب بھی معاشی اعتبارسے طاقتور ہیں اور اپنی ساکھ بچانے کیلئے وزارتِ دفاع کے تیار کردہ حلف نا........

© Daily Urdu