Bharti Cockroach Janta Party Ke Jalway
بھارتی کاکروچ جنتا پارٹی کے جلوے
تیونس میں ایک ریڑھی والے نے پولیس کی بھتہ خوری سے تنگ آکر خود کو نذرِ آتش کرلیا تو فقط اس ملک ہی نہیں بلکہ 2011ء کا برس شروع ہوتے ہی کئی عرب ملکوں میں بھی نام نہاد "عرب بہار" کی تحریک شروع ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں مصر پر کئی دہائیوں سے فرعونی اختیارات کے ساتھ براجمان صدر کا بھی برج الٹ گیا۔ مذکورہ تحریک کو تمام تر ریاستی جبر کے باوجود زندہ رکھنے میں سوشل میڈیا پر ٹویٹر کے نام سے موجود ایپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹویٹر جو اب ایک (X)کہلاتا ہے گویا نظام کہنہ کو شکست دینے کے لئے آہنی ہتھوڑا تصور ہونے لگا۔
سکول سے فارغ ہوتے ہی مجھے بھی "انقلاب" برپا کرنے کا جنون لاحق ہوگیا تھا۔ عمر ساری دیواروں سے مگر ٹکراتے ہی گزری۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہوا تو ٹویٹر کی ایجاد نے جی کو دوبارہ جوان بنادیا۔ دن کے کئی گھنٹے لیپ ٹاپ پر بیٹھا نظام کہنہ کے خلاف "ذہن سازی" میں مصروف رہتا۔ "تبدیلی کا ٹھیکہ" مگر کرکٹ کی بدولت کرشمہ ساز ہوئے ایک کھلاڑی کو مل چکا تھا۔ انہوں نے لاہور میں کینسر کے علاج کے لئے عوام کے دئے چندوں سے ایک جدید ترین ہسپتال بھی تعمیر کیا تھا۔
ہمارے نوجوانوں نے خلوصِ دل سے امید باندھی کہ سیاسی جماعت کی تشکیل کے ذریعے وہ ہمارے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے "نیا پاکستان" بھی تعمیر کرسکتے ہیں۔ مجھے ان کی روش "انقلابی" سے زیادہ "فسطائی" محسوس ہوئی۔ اپنے تحفظات کا اظہار شروع کیاتو ٹویٹر ہی پر پھیلائی جھوٹی خبروں نے مجھے حکمرانوں کا چاکر لفافہ صحافی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی قابل گردن زدنی ٹھہرانا شروع کردیا۔ ڈھیٹ ہڈی نے ذات پر اچھالا گند برداشت کرلیا مگر اپنے خیالات کے حامی مؤثر تعداد میں میسر نہ ہوئے۔
دریں اثناء "عرب بہار" بھی خزاں کی زد میں آگئی۔ کچھ عرصہ پسپائی کے بعد نظام کہنہ کو برقرار رکھنے والی قوتیں طاقت کے مراکز پر اپنا اجارہ بحال........
