Askari Idare Mein Taraqiyan o Tabdeeliyan Aur Kakar Formula
عسکری ادارے میں ترقیاں و تبدیلیاں اور "کاکڑ فارمولا"
بطور صحافی یہ حقیقت دریافت کرنے میں اپنے کیریئر کے دس سے زیادہ برس لگادیے کہ آرمی چیف کی تعیناتی اور مدتِ ملازمت میں توسیع سمیت عسکری اداروں میں ترقیاں اور مختلف عہدوں پر تقرریوں کے بارے میں "بریکنگ نیوز" دینے میں سبقت لے جانے سے آپ پھنے خان رپورٹر نہیں بن جاتے۔ اس حوالے سے دی گئی خبروں پر اِتراتے ہوئے پھرنا کم ظرفی ہے۔ اصولی طورپر کامل توجہ اس امر پر مرکوز رکھنا چاہیے کہ مختلف ادوار کی عسکری اشرافیہ کے قومی امور کے بارے میں بطور ادارہ ترجیحات کیا ہیں۔ سیاست دان ان پر عملدرآمد تو کیا انہیں اپنے ایجنڈے کا حصہ بنانے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ بھی سوچنا ہوتا ہے کہ سیاستدان اگر ادارے کی ترجیحات پر عمل پیرائی کو رضا مند نہ ہوں تو مزاحمتی رویہ کس حد تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مذکورہ تناظر میں بھی وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔
نواز شریف 1990ء کے انتخابات کی بدولت خلاف توقع پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر پہلی بار فائز ہوئے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹوکی پہلی حکومت کو اگست 1990ء کے مہینے میں گھر بھیجنے کے بعد غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم کو نگران وزیر اعظم تعینات کیا گیا تھا۔ صحافیوں کی بے پناہ اکثریت مصر تھی کہ نئے انتخاب کے نتائج آجانے کے بعد بھی وہ اس منصب پر قائم رہیں گے۔ مرحوم میرے ساتھ والد جیسی شفقت برتا کرتے تھے۔ بڑے دل کے مالک تھے اور میری تنقید کا ایک بار بھی برا نہ مانا۔ ان کے خلاف لکھے فقرے ان کے سامنے خطِ کشیدہ کے ذریعے نمایاں کرکے رکھے جاتے تو نظر انداز کردیتے۔
ان کی برتی غیر معمولی شفقت کے باوجود مجھے بطور رپورٹر اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں........
