America Ya Israel Jaise Mumalik Ki Muzammat Mein Masroof Hum Musalman
ریاستِ پاکستان کے تمام ستونوں اور اداروں پر بالادستی کی دعوے دار پارلیمان کو شہبازحکومت نے ٹرمپ کے تجویز کردہ "بورڈ آف پیس"کی بنیادی دستاویز پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں 22جنوری کے دن دستخط کرنے سے قبل اعتماد میں لینے کے قابل نہ سمجھا تو مجھے دُکھ ہوا۔ یہ واقعہ ہونے کے عین ایک دن بعد مگر جمعہ کی صبح ہماری پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا۔ وہ 34 منٹ تاخیر سے شروع ہوا اور اس کا مقصد ایوان صدر سے "پارلیمانی نظرثانی" کے لئے بھجوائے تین قوانین کی حمایت میں ایک بار پھر انگوٹھے لگوانا تھا۔ وہ لگ گئے اور پارلیمان اپنی "بالادستی" ثابت کرنے کے بعد چھٹی پر چلی گئی۔ جمعہ کے روز ہوئے اجلاس پر توجہ دیتے ہوئے میں نے خود کی ملامت کی۔ مدعی سست اور گواہ چست والا رویہ ویسے بھی صحافی کو زیب نہیں دیتا۔
ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے "ذہن سازوں " کی اکثریت مگر ٹرمپ منصوبے کی مذمت میں مصروف رہی۔ مذمتی رویہ اختیار کرنے والوں کی معقول تعداد انگریزی زبان میں عالمی امور پر عالمانہ مضامین لکھتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ناقدین میں سے کئی لوگ سفارت کاری کے عملی تجربے سے بھی مالا مال ہیں۔ ان کی جانب سے ہوئی مذمت نے مجھے "بورڈ آف پیس" کی بنیادی دستاویز کو دو سے زیادہ مرتبہ پڑھنے کو اُکسایا۔
ناقدین کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ مذکورہ دستاویز پر دستخط کے بعد پاکستان نے درحقیقت حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شرکت پر آمادگی کا اظہار کردیا ہے۔ جس دستاویز پر دستخط ہوئے اس میں لیکن وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ "بورڈ آف پیس" کا کوئی رکن ملک اس تناظر میں اپنی افواج بھیجنے سے انکار کرسکتا ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی جانب سے مذکورہ دستاویز پر دستخط ثبت کرنے سے........
