America Iran Muk Muka Ya Jang Ka Agla Round?
امریکہ ایران مْک مْکا یا جنگ کا اگلا راؤنڈ؟
خود کو عقل کل تصور کرتے مجھ جیسے پاٹے خان صحافیوں کو دیانتداری سے اعتراف کرلینا چاہیے کہ دورِ حاضر میں ہر ملک کی حکمران اشرافیہ نے انہیں "شودر" بنادیا ہے۔ فیصلہ ساز حلقوں تک ان کی رسائی ویسی نہیں رہی جو رواں صدی کے آغاز تک معمول تصور ہوا کرتی تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ حکمران ان دنوں خود کو عوام کے روبرو جوابدہ سمجھتے تھے۔ اہم فیصلے لینے سے قبل انہیں بروقت، جائز اور تاریخ ساز وغیرہ ثابت کرنے کے لئے رعایا کی ذ ہن سازی درکار تھی۔ صحافی اس تناظر میں لاشعوری طورپر ان کے ایجنٹ کا کردار ادا کرتے۔ ایجنٹ ہونے کا مگر انہیں احساس نہیں ہوتا۔
1985ء کے وسط سے طاقت واختیار کے مراکز تک رسائی کا آغاز ہوا تھا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد چند اہم فیصلہ ساز "اچانک" مجھے گپ شپ کو بلالیتے۔ ان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی "تخلیہ" کا حکم ہوتا۔ کمرے میں صحافی اور فیصلہ ساز تیسرے شخص کے بغیر بیٹھ جاتے تو میزبان پرخلوص دِکھتے چہرے اور لہجے کے ساتھ یہ جاننا چاہتا کہ لوگ حکومت کے بارے میں کیا محسوس کررہے ہیں۔ مجھ جیسے بے وقوف "سچ" بیان کرنے کی جرأت دکھانے کے گماں میں طویل بھاشن کا آغاز کردیتے۔ میزبان فکر مندی کا ناٹک رچاتے میرا خطاب سننے کے بعد ازخود کسی "اہم" مسئلہ کا ذکر چھیڑدیتا۔ "آف دی ریکارڈ" اس کے ذمہ داروں کے نام لے کر یہ بتادیاجاتا کہ جو مسئلہ زیر بحث آیا ہے اسے حل کرنے کے لئے فلاں فلاں صاحب کی مہربانی سے کیا حکمت عملی تیار ہوئی ہے۔ "اندر کی بات" سنتے ہوئے میرا سینہ فخر سے پھول جاتا۔ دفتر پہنچتے ہی ایک سنسنی "خبر" لکھ کراس کے چھپنے کے بعد دادوتحسین کا یقین جی کو مطمئن کردیتا۔
یہ دریافت کرنے میں تقریباََ دس برس لگے کہ مجھے "چوندی چوندی" خبر دیتے ہوئے درحقیقت فیصلہ ساز نے پبلسٹی ایجنٹ کی طرح استعمال کیا ہے۔ مزید........
