18Wi Tarmeem Ke Khilaf Aalmi Bank Ki Fard e Jurm
18 ویں ترمیم کے خلاف عالمی بنک کی فرد جرم
تقریباََ 12برس قبل عملی صحافت سے بتدریج کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کردی تھی۔ آتش کے "پھڑپھڑاتے" ایام میں ہفتے میں ایک دوبار اسلام آباد میں مقیم تگڑے ممالک اور عالمی اداروں کے نمائندوں سے بے تکلف ملاقاتیں بھی ہوجایا کرتی تھیں۔ 2016ء کے برس اچانک احساس ہوا کہ پاکستانی معیشت کو "امداد"کے نام پر رواں رکھنے والے ممالک اور اداروں کے نمائندے 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو میسر اختیارات سے ناخوش ہیں۔ اسلام آباد کے سرکاری افسران بھی مذکورہ اختیارات کے بارے میں مضطرب نظر آتے تھے۔ نجی محفلوں میں محتاط انداز میں مذکورہ افسران کے بیان کردہ خدشات کو سخت زبان میں ادا کرتے سفارت کاروں کی گفتگو سن کر میں پریشان سے زیادہ حیران ہوجاتا۔
لطیفہ یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت فراہم کردہ اختیارات کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے مابین قومی خزانے سے رقوم کی تقسیم کا جو فارمولا طے ہوا اس کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب حکومت نے اٹھایا۔ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نیشنل فنانشل کمیشن ایوارڈ کے طے کردہ فارمولے کے نتیجے میں میٹرو بس اور انڈرپاسز جیسے منصوبے متعارف کروائے۔ ان پر ریکارڈ عجلت کے ذریعے عملدرآمد سے "شہباز سپیڈ" کا لقب بھی کمایا۔ ان ہی اختیارات کا لیکن دیگر صوبوں خصوصاََ سندھ میں استعمال "بے دریغ کرپشن" کے فروغ کا موجب قرار پانا شروع ہوگیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی 2008ء سے سندھ میں مسلسل برسراقتدار ہے۔ سندھ میں مبینہ کرپشن سے جڑی داستانوں پر مشتمل بیانیے کو اس نے کبھی اہمیت نہیں دی۔ ایک دوبار اس جماعت کی قیادت کو میں نے ان کہانیوں کی جانب متوجہ کروانا چاہا۔ وہ مگر کندھے اچکاکر بات ٹالنے کو ترجیح دیتے محسوس ہوئے اور مجھے "تو کون؟ میں چاچا خواہ مخواہ" کی طرح کسی سیاسی جماعت کی ترجمانی یا دفاع کا شوق لاحق نہیں۔
آج سے تقریباََ 12برس قبل........
