Hub Sub Theek Hain, Bas Koi Poochta Nahi
ہم سب ٹھیک ہیں، بس کوئی پوچھتا نہیں
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، مگر ان کے اندر کیا گزر رہی ہے، اس سے تقریباً ناواقف ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ کس نے نئی گاڑی خریدی، کس نے بیرونِ ملک سفر کیا، کس کی ترقی ہوئی اور کس کے گھر میں خوشی کی تقریب تھی۔ ہم تصویروں پر مبارک باد دیتے ہیں، اسٹیٹس پر دل بناتے ہیں اور کامیابیوں پر داد دیتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی ٹھہر کر یہ پوچھتے ہیں کہ ان سب کے درمیان انسان خود کیسا ہے۔
ہماری زندگیوں میں رابطے بڑھ گئے ہیں، لیکن تعلقات میں وہ گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے جو کسی انسان کو اپنے دکھ بیان کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ موبائل فون کی اسکرین پر سینکڑوں نام موجود ہیں، مگر ہر نام ایسا نہیں جس کے سامنے انسان اپنے بکھرے ہوئے وجود کے ساتھ بیٹھ سکے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے تو تیار رہتے ہیں، مگر کسی کی اداسی کے سامنے اکثر بے بس ہو جاتے ہیں؟
کسی دوست کی شادی ہو تو مبارک باد دینے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ کسی کو نئی ملازمت ملے تو سب اس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جب وہی شخص زندگی کی کسی مشکل سے گزر رہا ہو، جب اسے اپنی صلاحیتوں پر شک ہونے لگے یا جب اس کے لیے روزمرہ کے معمولات نبھانا بھی دشوار ہو جائے، تو اکثر اسے اپنے دکھ کے ساتھ تنہا رہنا پڑتا ہے۔
اس تنہائی کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہم نے انسانوں کو ان کی ظاہری کامیابیوں سے پرکھنے کی عادت بنا لی ہے۔
جس کے پاس اچھی ملازمت ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مطمئن ہوگا۔ جس کا گھر آباد ہے، اس کے بارے میں خیال کرتے ہیں کہ اسے کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔ جو شخص دوسروں کے سامنے مسکراتا ہے، ہم اسے خوش حال تصور کر لیتے ہیں۔ ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ زندگی کی مشکلات ہمیشہ چہرے پر لکھی ہوئی نہیں ہوتیں۔
بعض اوقات سب سے زیادہ ہنسنے والا شخص بھی کسی ایسی پریشانی سے گزر رہا ہوتا ہے جسے بیان کرنے کے لیے اسے الفاظ نہیں ملتے۔ بعض لوگ اپنے گھر والوں کے لیے مضبوط بنے رہتے ہیں، اپنے دوستوں کے سامنے خوش مزاج دکھائی دیتے ہیں اور اپنے کام کی جگہ پر پوری ذمہ داری سے فرائض انجام دیتے ہیں، مگر انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب سے اپنی ذات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
ہم نے........
