Petrol Se Jure Sawalat
پاکستان میں ایک دن میں ساڑھے چار لاکھ بیرل تک پٹرول، ڈیزل وغیرہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ ایک بیرل میں 159 لیٹر ہوتے ہیں یعنی ہماری روزانہ کی کھپت بنی کوئی سات کروڑ پندرہ لاکھ چوالیس ہزار لیٹرز سے بھی زیادہ۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز بند ہوئی اورپاکستان میں تیل کی سپلائی متاثر ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ساٹھ، باسٹھ ڈالر فی بیرل سے چھلانگ لگا کے نوے، بانوے ڈالر پر پہنچ گئیں بلکہ کمال تو یہ ہوا کہ سوموار کے روز ایک سو بیس ڈالر کو جا کے ٹچ کر لیا۔
حکومت پاکستان نے جنگ لگنے کے تیسرے، چوتھے روز پٹرول کی قیمتوں میں پچپن روپے لیٹر کا اضافہ کردیا اور ساتھ ہی بتا دیا کہ ہمارے پاس پچیس سے اٹھائیس دن کے سٹرٹیجک ذخائر موجود ہیں۔ اس پر سوشل میڈیا پر موجود نام نہاد ماہرین کے ساتھ ساتھ بہت سارے ٹی وی چینلوں کے معاشی ماہرین نے بھی سوال اٹھانے شروع کر دئیے جیسے ہمارے مفتاح اسماعیل۔ یہ پی ڈی ایم کی حکومت میں کوئی تین ماہ کے لئے وزیر خزانہ رہے۔ یہ ڈیزل پٹرول کے پچپن روپے لیٹر مہنگا ہونے پر اعتراض کر رہے تھے تو میں نے ان کا ریکارڈ نکالا، موصوف تین ماہ میں پچا سی روپے لیٹر مہنگا کرکے گئے تھے اور اس وقت عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل کم ہو رہی تھیں۔
پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی چار سوالات ہونے لگے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ جب حکومت کے پاس سٹاک موجود ہے توموجود سٹاک کو نئی قیمت پر کیوں بیچ رہی ہے، یہ تو ناجائز منافع خوری ہے اور یقین کریں میں بھی کچھ دیر تک اس پر یقین کرتا........
