Khyber Pakhtunkhwa Ki Bad Qismati
خیبرپختونخوا کی بدقسمتی
یہ خیبرپختونخوا کی بدقسمتی ہے کہ وہاں کی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاراور دہشت گردی کی پشتی بان ہے مگر اس بدقسمتی کے ذمہ دار بھی پنجابی یا سندھی نہیں بلکہ وہ پختون خود ہیں جنہوں نے ایسی پارٹی کو ووٹ دئیے ہیں کہ جب کرک اور کوہاٹ میں سیکورٹی فورسز پر حملے ہو رہے تھے، فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور پولیس کے ڈی ایس پی سمیت سیکورٹی فورسز کے افسران شہید ہو رہے تھے تو اسی صوبے کا وزیراعلیٰ اپنی ہی ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی کا اعلان کر رہا تھا۔ یعنی ایک طرف سے دہشت گردپاکستان کی افواج پر حملہ آور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کا وزیراعلیٰ۔
اس کی پارٹی کے عقل سے محروم چمچے کڑچھے اس بے ہودہ اعلان پر تالیاں بجا رہے تھے۔ سہیل آفریدی انہیں بتا رہا تھا کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لڑائی میں اس لئے ہے کہ وہ ان کے توشہ خانہ چوری سے لے کر ملک ریاض سے زمینیں لینے تک کے مقدمات میں ملوث ان کے لیڈر کو جیل سے باہر نہیں نکال رہی، ان کی پارٹی کو اسی طرح اقتدار نہیں دے رہی جس طرح 2018ء میں فیض حمید اینڈ کمپنی نے آر ٹی ایس بٹھا کے دیا تھا۔
ان کا پروپیگنڈہ ہے کہ حکمران جماعت کو صرف سترہ نشستیں ملی تھیں اور یہ اسی طرح کابار بار بولا جانے والا جھوٹ جیسا کہ 2013ء کے بعد پینتیس پنکچروں کا بولا گیا اور پھر اسے سیاسی بیان (یعنی جھوٹ) قرار دے دیا گیا۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی عام انتخابات کے بعدنتائج چیلنج کرنے اور ری کائونٹنگ میں پندرہ سے زیادہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی وہ نشستیں ہار چکے ہیں جن پر ان کی جیت کا........
