Ghareebon Ke 5 Hazar
یہ شور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر مچایا جا رہا ہے جس کے تحت انتہائی غریب خاندانوں کو ہر تین ماہ کے بعد ساڑھے چودہ ہزار روپے کی امدا د ملتی ہے یعنی ہر مہینے پانچ ہزار روپوں سے سے سوڈیڑھ سو روپے کم۔ سوشل میڈیائی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس رقم سے قوم کو بھکاری بنایا جا رہا ہے اور ہم اس امدادی پروگرام پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے انہی پیسوں سے انہی غریبوں کو کوکاروبار کروا کر دیں تواس سے ان میں کمانے کاجذبہ آئے گا، روزگار بڑھے گا، مفت خوری کا کلچر ختم ہوگا اور ملکی معیشت ترقی کرے گی وغیرہ وغیرہ۔ مجھے کتابی طور پر یہ باتیں بہت اچھی لگتی ہیں مگرکیا زمینی حقائق بھی اس آئیڈیلزم کی حمایت کرتے ہیں اور کیا یہ عملی طور پر ممکن بھی ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے کاروبار کرنا ہے ان کے لئے حکومتی سطح پر الگ لون اور فنانس سکیمیں موجود ہیں، انہیں امداد کے ساتھ گڈ مڈ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے سے بھی لاچار ہیں لیکن جن ملکوں کی معیشتیں بہت زیادہ مضبوط ہیں، ہمارے دس فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے مقابلے میں وہاں تیس چالیس فیصد تک ٹیکس دیا جاتا ہے تو وہاں بھی ویلفیئر کے پروگرامز موجود ہیں بلکہ میں دیکھ رہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ میں ماہانہ امداد پاکستان کے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک بن جاتی ہے جبکہ ہم پانچ ہزار روپے ماہانہ سے بھی کم دے رہے ہیں۔
ہمارا مذہب بھی غریبوں کی مدد کا اسی طرح حکم دیتا ہے کہ اس نے زکواة........
