Netanyahu Ke Abu Dhabi Mein 6 Ghante
نیتن یاہو کے ابوظہبی میں چھ گھنٹے
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض اوقات اصل کہانی کسی ایک ملاقات میں نہیں بلکہ واقعات کی ترتیب میں چھپی ہوتی ہے۔ 27 ستمبر کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اچانک ابوظہبی پہنچنا، 28 ستمبر کو ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان کا اسی شہر میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کرنا اور پھر 29 ستمبر کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان کا ریاض پہنچ کر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر دفاع خالد بن سلمان سے ملاقات کرنا، یہ تین دن خلیج کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے پر ایک اہم سوال ضرور اٹھاتے ہیں۔
کیا یہ محض تین الگ الگ سفارتی واقعات تھے، یا خطے میں سلامتی کے نئے انتظامات کی ضرورت نے مختلف دارالحکومتوں کو ایک ہی وقت میں ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب ابھی موجود نہیں۔ لیکن واقعات کی ترتیب کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
27 ستمبر کو نیتن یاہونے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ اماراتی سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی۔ اسرائیلی حکام کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ملاقات تقریباً چھ گھنٹے جاری رہی اور ایران بھی گفتگو کا اہم موضوع........
