Zameer Ka Bojh
فرض کریں ایک شخص برسوں تک کسی عمل کا حصہ رہے، اس سے فائدہ بھی اٹھائے، اس کے ساتھ چلتا بھی رہے اور پھر ایک دن اچانک کھڑا ہو کر اعتراف کرے کہ یہ سب غلط تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب غلط تھا تو آپ اس وقت خاموش کیوں رہے؟ آپ نے مخالفت کیوں نہ کی؟ آپ نے مزاحمت کیوں نہ کی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس غلطی کا حصہ بننے سے انکار کیوں نہ کیا؟
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے پاکستانی سیاست، جمہوریت اور سیاسی قیادت کے بارے میں کئی سوالات دوبارہ زندہ کر دیے۔ خواجہ آصف نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں جب اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر تھے تو انہیں اسد قیصر کے گھر بلایا جاتا تھا، وہاں آئی ایس آئی کے لوگ موجود ہوتے تھے، وہ جنرل فیض حمید کے لوگ ہوتے تھے، وہ قانون سازی کے بارے میں گفتگو کرتے تھے، قوانین میں تبدیلیوں کی باریکیاں بتاتے تھے اور مختلف معاملات پر مشاورت ہوتی تھی۔ ہم نے ان کے ساتھ مل کر کئی قوانین پر کام کیا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ بات ان کے ضمیر پر بوجھ تھی اور وہ آج یہ بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بیان اپنی نوعیت کا غیر معمولی بیان تھا کیونکہ یہ صرف ایک سیاسی الزام نہیں تھا بلکہ ایک اعتراف تھا۔ جواب میں اسد قیصر نے کہا کہ وہ ان کا ذاتی گھر نہیں تھا بلکہ اسپیکر قومی اسمبلی کی سرکاری رہائش گاہ تھی جو انہیں بطور اسپیکر ملی ہوئی تھی۔
لیکن اصل سوال اسد قیصر کے گھر یا اسپیکر ہاؤس کا نہیں۔ اصل سوال خواجہ آصف کے اپنے الفاظ ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہوتا رہا، اگر واقعی منتخب نمائندے غیر منتخب افراد کی موجودگی میں قانون سازی پر مشاورت کرتے رہے، اگر واقعی سیاسی جماعتیں ان ہدایات کی روشنی میں فیصلے کرتی رہیں تو........
