menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iqbal Par Ilzam Lagane Se Pehle

74 0
05.09.2026

اقبال پر الزام لگانے سے پہلے

ایک دن ایک بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک بوڑھے فقیر کو دیکھا۔ فقیر کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، جوتے گھسے ہوئے تھے اور ہاتھ میں ایک پرانی سی لاٹھی تھی۔ بادشاہ نے مذاق میں پوچھا، "بابا! تم کرتے کیا ہو؟" فقیر نے جواب دیا، "بادشاہ سلامت! میں لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتا ہوں"۔ بادشاہ ہنسا اور بولا، "اس کام کے بھی پیسے ملتے ہیں؟" فقیر مسکرایا اور کہا، "نہیں، لیکن کبھی کبھی لوگ بغیر پڑھے فیصلہ ضرور سنا دیتے ہیں"۔

مجھے یہ واقعہ اس وقت یاد آیا جب سوشل میڈیا پر علامہ اقبال کے بارے میں دو پوسٹیں پڑھیں۔ ایک میں لکھا تھا کہ اقبال کی دو بیویاں تھیں اور وہ کرتے بھی کچھ نہیں تھے۔ ان کی آمدن کا ذریعہ کیا تھا۔ نیچے تبصرے شروع ہوئے تو کسی نے کہا وہ وکیل تھے، کسی نے کہا پروفیسر تھے، کسی نے کہا انگریزوں کے وظیفہ خور تھے، کسی نے کہا کسی ریاست کے راجہ سے وظیفہ لیتے تھے اور کسی نے تو یہ تک لکھ دیا کہ اقبال بڑے لوگوں کی شان میں قصیدے لکھ کر پیسے لیتے تھے۔

میں نے پوسٹ دوبارہ پڑھی اور سوچا، ہم نے اقبال کو قومی شاعر تو بنا دیا، مگر افسوس ہم نے اقبال کو پڑھنے کی زحمت نہیں کی۔ آئیے آج سوشل میڈیا کی عدالت میں نہیں بلکہ تاریخ کی عدالت میں اقبال کا مقدمہ سنتے ہیں۔

پہلا سوال: کیا اقبال کی دو بیویاں تھیں؟

اس سوال کا جواب "ہاں" یا "نہیں" میں دینا تاریخ کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

اقبال کی زندگی میں تین شادیاں ہوئیں۔ پہلی شادی کریم بی بی سے ہوئی۔ یہ شادی 1893ء میں ہوئی، جب اقبال ابھی نوجوان اور طالب علم تھے۔ ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی۔ بعد میں دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ اہم بات یہ ہے کہ دستیاب اقبالیاتی مواد کے مطابق کریم بی بی نے طلاق نہ دینے کی درخواست کی تھی اور وہ باقی زندگی الگ رہیں، اقبال انہیں باقاعدگی سے مالی مدد بھی دیتے رہے۔

پھر سردار بیگم سے شادی ہوئی اور بعد میں مختار بیگم سے بھی۔ مختار بیگم 1924ء میں زچگی کے دوران انتقال کر گئیں، جبکہ سردار بیگم سے اقبال کے ہاں جاوید اقبال اور منیرہ پیدا ہوئے۔

لہٰذا "اقبال کی دو بیویاں تھیں" کہنا مکمل حقیقت نہیں۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اقبال کی تین شادیاں ہوئیں، جبکہ پہلی اہلیہ سے علیحدگی کے بعد ان کی ازدواجی زندگی میں مختلف ادوار آئے۔ بعض سوانحی حوالوں میں تاریخوں اور نکاح کی کیفیت کی تفصیلات میں معمولی اختلاف بھی ملتا ہے، اس لیے سوشل میڈیا کی طرح ایک جملے میں فیصلہ سنا دینا درست نہیں۔

اب آتے ہیں دوسرے الزام کی طرف: "اقبال کرتے کیا تھے؟" یہ سوال پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔

اقبال نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ، انگریزی ادب اور عربی پڑھی۔ 1899ء میں ایم اے فلسفہ کیا۔ اسی سال اورینٹل کالج لاہور میں میکلوڈ عربک ریڈر مقرر ہوئے اور تقریباً 74 روپے 14........

© Daily Urdu