menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Greater Israel Aur Akhri Jang

35 0
25.09.2026

گریٹر اسرائیل اور آخری جنگ

دنیا میں کچھ نقشے کاغذ پر بنتے ہیں اور کچھ انسانوں کے ذہن میں۔ کاغذ پر بننے والے نقشے دریا، پہاڑ، سمندر اور سرحدیں بناتے ہیں، مگر ذہن میں بننے والے نقشے نسلوں تک سفر کرتے ہیں۔ ایک نسل انہیں دوسری نسل کے حوالے کرتی ہے، دوسری تیسری کو اور پھر ایک دن وہ نقشے مذہب، سیاست، قومیت اور طاقت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا تصور بھی ایک ایسا ہی نقشہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہمیں آج کے اسرائیل نہیں بلکہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کے حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کے زمانے تک واپس جانا پڑے گا۔

حضرت یعقوبؑ کو اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے بارہ بیٹے ہوئے اور انہی بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کی روایت وابستہ ہے۔ یہاں ایک بنیادی غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ بنی اسرائیل صرف یہودا کی اولاد نہیں تھے۔ یہودا حضرت یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں میں سے ایک تھے۔ بعد کے زمانوں میں یہودا کے نام سے "یہودی" کی نسبت زیادہ معروف ہوئی، مگر بنی اسرائیل کا دائرہ حضرت یعقوبؑ کے تمام قبائل تک پھیلا ہوا تھا۔

حضرت یعقوبؑ کے بیٹے حضرت یوسفؑ کی زندگی بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ باب ہے جس میں ایک خاندان کی داستان ایک پوری قوم کے سفر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بھائیوں کا حسد، کنواں، غلامی، مصر، قید، خوابوں کی تعبیر اور پھر مصر کے اقتدار میں ایک بلند مقام، حضرت یوسفؑ کی زندگی نے بنی اسرائیل کو مصر سے جوڑ دیا۔

وقت گزرا، نسلیں بدلیں اور حالات بھی بدل گئے۔ جو لوگ کبھی مصر میں عزت کے ساتھ آباد ہوئے تھے، وہ بعد میں ایک ایسی قوم بن گئے جس پر مصری حکمرانوں کے دور میں ظلم و جبر کی روایت بیان ہوتی ہے۔ پھر حضرت موسیٰؑ تشریف لائے۔

موسیٰؑ کی کہانی شاید دنیا کی عظیم ترین انسانی داستانوں میں سے ایک ہے۔ فرعون کا خوف، نومولود بچوں کے قتل کا حکم، والدہ کا اپنے بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا کے حوالے کرنا، فرعون کے محل تک اس بچے کا پہنچ جانا اور پھر اسی بچے کا بڑا ہو کر فرعون کے سامنے کھڑا ہو جانا، یہ سب واقعات مذہبی روایت میں ایک ایسے موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں جہاں ایک فرد پوری قوم کی تقدیر بدل دیتا ہے۔

حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل........

© Daily Urdu