Dolat Kis Ko Dhundti Hai?
دولت کس کو ڈھونڈتی ہے؟
لاہور کے ایک محلے میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ عمر اس کی چھوٹی تھی لیکن خواہش بہت بڑی تھی۔ وہ اپنی گلی کی نکڑ پر کھڑا ہو کر آس پاس کے بڑے گھروں کو دیکھا کرتا تھا۔ اونچی دیواریں۔ چوڑے دروازے۔ برآمدوں میں بچھی ٹھنڈی چھاؤں۔ اندر کھڑی گاڑیاں اور پھر وہ خاموشی سے اپنے گھر لوٹ آتا تھا۔ اس کے دل میں ایک ہی بات اٹھتی تھی، مجھے امیر بننا ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں خواب دلیل سے نہیں، ضد سے پیدا ہوتے ہیں۔
ایک دن وہ گھر کے صحن میں بیٹھا تھا۔ چارپائی ایک طرف پڑی تھی۔ دوپہر کی دھوپ صحن میں ایک سنہری لکیر کی صورت اتری ہوئی تھی۔ اس نے ٹوتھ پیسٹ کی ایک خالی ٹیوب اٹھائی اور دیر تک اسے گھورتا رہا۔ پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا: کیوں نہ اس سے سکے بنا لیے جائیں۔ بچے کی نیت میں کھوٹ نہیں تھا مگر عقل ابھی کچی تھی۔ شام تک ہاتھ خراب ہو چکے تھے۔ کپڑوں پر دھبے تھے۔ صحن بکھر........
