Shukriya Pakistan, Aman Ka Safeer
شکریہ پاکستان، امن کا سفیر
انقلابِ ایران کو تقریباََ نصف صدی عرصہ بیت چکا ہے، مگر اس انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان اختلاف نہیں تھا بلکہ نظریات، مفادات اور عالمی سیاست کی ایک طویل داستان ہے، جس میں بداعتمادی، پابندیاں، دھمکیاں اورکشیدہ بیانات اور حالیہ جنگ شامل ہے۔ اس تمام عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک خواب کی مانند تھے، جن کا حقیقت بننا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے دنیا کو چونکا دیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا انعقاد نہ صرف ایک غیر معمولی پیش رفت تھی بلکہ اس بات کا واضح ثبوت بھی کہ عالمی سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا۔ اس پیش رفت کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان نے ایک کلیدی اور مثبت کردار ادا کیا۔ پاکستان نے نہ صرف دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں سہولت کاری کی بلکہ ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ بھی کیا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ کہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر ختم........
