Sheikhupura Ki Khooni Sarkein
شیخوپورہ-سرگودھا روڈ، جسے عوام نے خوف، کرب اور مسلسل جانی نقصانات کے باعث "خونی روڈ" کا نام دیا، آج بھی اسی طرح انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ یہ سڑک محض ایک ٹریفک راستہ نہیں رہی، بلکہ روزانہ سینکڑوں شہریوں کے لیے موت اور زندگی کا امتحان بن چکی ہے۔ تنگ، خستہ حال اور بے ہنگم ٹریفک کی حامل یہ سڑک آئے روز قیمتی انسانی جانیں نگل رہی ہے، مگر افسوس کہ اربابِ اختیار کی توجہ اب تک محض بیانات اور وعدوں تک محدود ہے۔ گزشتہ سال میری کزن اسی خونی سڑک پر ایک حادثے میں جان کی بازی ہار گئیں۔ یہ سانحہ محض ایک فرد کا نہیں تھا، بلکہ اس نظام کی ناکامی کا ثبوت تھا جو شہریوں کی جانوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔
شیخوپورہ کی دیگر اہم شاہراہیں، جن میں شیخوپورہ-لاہور، شیخوپورہ-گوجرانوالہ اور شیخوپورہ-فیصل آباد روڈ شامل ہیں، برسوں پہلے ڈبل ہو چکی ہیں۔ ان سڑکوں کی توسیع سے نہ صرف ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوا بلکہ حادثات میں نمایاں کمی بھی آئی۔ اس کے برعکس شیخوپورہ۔ سرگودھا اور شیخوپورہ۔ حافظ آباد روڈ آج بھی تنگ، خستہ اور خطرناک حالت میں ہیں۔ یہ امتیازی سلوک آخر کب تک جاری رہے گا؟ کیا ان علاقوں کے شہریوں........
