menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Marka e Haq Aur Pakistan Ki Difai Hikmat e Amli Kanaya Daur

18 0
12.05.2026

معرکۂ حق اور پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کا نیا دور

عصرِ حاضر کی عسکری و سفارتی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بیانیہ سازی، اسٹریٹیجک ابلاغ اور علامتی خطابت محض ضمنی عوامل نہیں رہے بلکہ ریاستی طاقت کے اظہار کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطحی تقاریب، جنہیں "معرکۂ حق" اور "آپریشن بنیان مرصوص" کے تناظر میں ایک سالہ یادگاری تقریب کے طور پر پیش کیا گیا، اسی بدلتی ہوئی عالمی سیاسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہیں، جہاں عسکری کامیابی کو صرف میدانِ جنگ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی شناخت، نظریاتی استحکام اور سفارتی خود اعتمادی کے استعارے میں ڈھال دیا جاتا ہے۔

اس موقع پر مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عسکری کمانڈ کے بیانات میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو ایک ناقابلِ تسخیر حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب نہ صرف فوری بلکہ انتہائی شدید اور ہمہ جہتی نوعیت کا ہوگا۔ اس خطابت میں دفاعی خود اعتمادی، تکنیکی برتری اور اسٹریٹیجک تیاری کے تصورات کو ایک مربوط فکری سانچے میں پیش کیا گیا، جس کا مقصد نہ صرف داخلی سطح پر حوصلہ افزائی تھا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک واضح پیغام بھی تھا۔

بیانیے کے مطابق، ماضی قریب میں ہونے والی عسکری کشیدگی نے نہ صرف میدانِ جنگ میں ایک فیصلہ کن صورتحال کو جنم دیا بلکہ اس کے نتیجے میں دشمن کے اسٹریٹیجک عزائم کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔ اس تناظر میں "معرکۂ حق" کو........

© Daily Urdu