menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Subay Nahi, Awam Ko Ba Ikhtiyar Karen

23 0
03.08.2026

نئے صوبے نہیں، عوام کو با اختیار کریں

وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام کی ناکامی پہ نئے صوبوں اور نئے نظام کی تخلیق پہ بہت سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگر پاکستان کے مسائل نئے صوبے بنا کر حل ہونے ہوتے تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہر دس سال بعد نئے صوبے تخلیق کر رہے ہوتے۔ لیکن دنیا نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے نئے صوبے نہیں، اختیارات نیچے منتقل کیے۔

قرضوں کی دلدل میں ڈوبے پاکستان کے لیے نئے صوبے بنانے آسان ہوگا؟ یہ صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنا نہیں۔ اس کا مطلب ہے ہر صوبے کے لئےایک گورنر، ایک وزیرِ اعلیٰ، نئی کابینہ، نئی صوبائی اسمبلی، سیکڑوں نئے اراکین، مشیروں اور معاونین کی فوج، نیا سیکریٹریٹ، نئی سرکاری گاڑیاں، نئی رہائش گاہیں، نئی بیوروکریسی اور اربوں روپے کے مستقل اخراجات۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو اس کے بدلے صاف پانی، بہتر ٹرانسپورٹ، سیوریج، ٹاؤن پلاننگ اور کچرا اٹھانے کا نظام مل جائے گا؟ گزشتہ 78 برس کا تجربہ تو اس کی نفی کرتا ہے۔

دنیا کے کامیاب شہروں پر نظر ڈالیں۔ نیویارک، لندن، پیرس، ٹوکیو، سیول اور........

© Daily Urdu